اتوار، 17-مئی،2026
اتوار 1447/11/30هـ (17-05-2026م)

ٹرمپ انتظامیہ کا ایران کیخلاف محدود کارروائی کا امکان، پاکستان نے ثالثی کی کوششیں تیز کردیں

17 مئی, 2026 13:32

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورۂ چین کے بعد واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، اس سنگین صورتحال کے پیش نظر پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان جاری اپنے ثالثی کے کردار کو مزید تیز کرتے ہوئے اپنے وزیر داخلہ کو تہران بھیج دیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دورۂ چین سے بظاہر ایران کے ساتھ جاری پسِ پردہ مذاکرات میں کسی بڑی یا بریک تھرو پیش رفت کا امکان پیدا نہیں ہو سکا ہے۔

باخبر سفارتی ذرائع کے مطابق اگرچہ چینی صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر کے ساتھ ملاقات میں سفارتی کوششوں کی بھرپور حمایت کی اور عالمی معیشت کے لیے آبنائے ہرمز کو مستقل طور پر کھولنے کی ضرورت پر زور دیا، تاہم ایران سے متعلق کسی عملی یا مثبت پیش رفت کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

اس صورتحال کے بعد امریکی انتظامیہ کے متعدد اعلیٰ اہلکار جو ٹرمپ اور شی کے درمیان ہونے والی بات چیت کے نتائج کے منتظر تھے، اب تہران کے خلاف ایک نئی اور سخت حکمتِ عملی طے کرنے میں مصروف ہیں۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق اب صدر ٹرمپ کو یہ حتمی فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا ایران کے خلاف مزید حملے یا محدود کارروائیاں مسئلے کے حل کے لیے بہتر آپشن ہیں یا نہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ کے اندر ایران کے حوالے سے آگے بڑھنے کے طریقہ کار پر واضح اور شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ایران نے جلد معاہدہ نہ کیا تو انتہائی برا وقت شروع ہو جائے گا، صدر ٹرمپ کا انتباہ

پینٹاگون کے بعض عسکری حکام کا مؤقف ہے کہ ایران پر محدود اور ٹارگٹڈ فضائی حملوں کے ذریعے دباؤ بڑھا کر اسے اپنی شرائط سے پیچھے ہٹنے اور رعایتوں پر مجبور کیا جا سکتا ہے، جبکہ دوسری طرف کچھ حکام کا کہنا ہے کہ توجہ صرف سفارت کاری پر ہی مرکوز رہنی چاہیے۔

خود ڈونلڈ ٹرمپ بھی معاشی دباؤ کے ذریعے ایران کو معاہدے پر آمادہ کرنے کے حق میں رہے ہیں، لیکن ایران کی جانب سے اپنی شرائط میں لچک نہ دکھانے اور آبنائے ہرمز کی مسلسل بندش نے امریکی صدر کو شدید ناراض اور بے صبرا کر دیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان آنا کیلی نے واضح کیا ہے کہ ٹرمپ کے پاس فوجی کارروائی سمیت تمام آپشنز موجود ہیں۔ دوسری جانب ایران نے بھی اپنی فوجی تیاریوں کو حتمی شکل دے دی ہے اور ایرانی خبر رساں ایجنسی نور نیوز کے مطابق تہران نے امریکی مفادات پر بیک وقت وسیع پیمانے پر حملوں کا جامع منصوبہ تیار کر لیا ہے۔

اتوار کے روز صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر سمندر میں ایرانی کشتیوں کی تصویر شیئر کرتے ہوئے طوفان سے پہلے کی خاموشی کے الفاظ لکھ کر نیا انتباہ جاری کیا ہے۔

اس انتہائی سنگین اور نازک موڑ پر پاکستان جو گزشتہ کئی ماہ سے دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کا اہم کردار ادا کر رہا ہے، نے اپنی سفارتی کوششیں ہنگامی بنیادوں پر تیز کر دی ہیں اور اسلام آباد نے گزشتہ روز اپنے وزیر داخلہ کو خصوصی مشن پر تہران روانہ کیا ہے تاکہ دونوں فریقین کو لچک دکھانے پر آمادہ کر کے جنگ کا خطرہ ٹالا جا سکے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔