لندن کی سڑکوں پر یومِ نکبہ کی یاد اور غزہ جنگ کے خاتمے کیلئے برطانوی عوام کا سمندر نکل آیا

برطانیہ کے دارالحکومت لندن کے وسطی علاقے اس وقت شدید سیاسی اور نظریاتی تناؤ کا مرکز بن گئے، جب دسیوں ہزار افراد نے دو بالکل متضاد بڑی ریلیوں میں شرکت کی۔
برطانیہ کے دارالحکومت لندن کے وسطی حصوں میں اس وقت سیکیورٹی کی انتہائی سخت اور حساس صورتحال دیکھی گئی جب دسیوں ہزار مظاہرین نے دو الگ الگ اور مکمل طور پر متضاد احتجاجی ریلیوں میں شرکت کے لیے سڑکوں کا رخ کیا۔
ان مظاہروں میں سے ایک ریلی بڑھتی ہوئی مہاجرین کی تعداد کے خلاف نکالی گئی تھی جبکہ دوسرا بڑا مارچ فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی اور یومِ نکبہ کی یاد میں منعقد کیا گیا تھا۔
برطانوی پولیس نے شہر میں کسی بھی ممکنہ خونی تصادم اور فریقین کے درمیان جھڑپوں کو روکنے کے لیے چار ہزار سے زائد عسکری تربیت یافتہ اہلکار تعینات کیے تھے، جن میں لندن سے باہر کے اضلاع سے بلائی گئی اضافی نفری بھی شامل تھی۔
دونوں ریلیوں کے اختتام پر مختلف الزامات کے تحت 43 افراد کو گرفتار کیا گیا، جبکہ کارروائی کے دوران چار پولیس اہلکار معمولی زخمی بھی ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں : 80 سالہ اسرائیلی مظالم کی تاریخ اور غزہ میں جاری بدترین انسانی بحران
ہجرت مخالف مظاہرے کا انعقاد اسلام مخالف اور دائیں بازو کے کٹر برطانوی کارکن اسٹیفن یاکسلی لینن المعروف ٹومی رابنسن کی جانب سے کیا گیا تھا، جس پر برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر نے نفرت اور تقسیم کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا تھا۔
حکومت نے اس مارچ کو روکنے کے لیے گیارہ ایسے غیر ملکی انتہا پسندوں کے برطانیہ میں داخلے پر پابندی بھی عائد کی تھی، جو دائیں بازو کے اشتعال انگیز مانے جاتے ہیں۔
ٹومی رابنسن کے حامیوں نے ہاتھوں میں برطانیہ اور انگلینڈ کے جھنڈے اٹھا رکھے تھے اور وہ کیئر اسٹارمر کی حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کر رہے تھے، کیونکہ سال 2022 اور 23 میں مہاجرین کی شرح نو لاکھ تک پہنچ گئی تھی، جس نے برطانوی عوام میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔
دوسری جانب اسی وقت لندن کی دوسری بڑی سڑک پر فلسطین کے حامی مظاہرین نے تاریخی یومِ نکبہ کی یاد میں ایک بہت بڑا مارچ کیا، جو 1948 کی جنگ کے بعد فلسطینیوں کی ان کی آبائی زمینوں سے بے دخلی کی علامت ہے۔
ان مظاہرین نے غزہ میں فوری جنگ بندی اور اسرائیلی جارحیت کے خاتمے کے مطالبات پر مبنی پلے کارڈز اور فلسطینی پرچم تھام رکھے تھے۔
اکتوبر 2023 سے اب تک لندن میں فلسطین کے حق میں یہ تینتیسواں بڑا مظاہرہ تھا، جس کی وجہ سے پولیس کے مطابق لندن کے یہودی اب خود کو وسطی لندن میں غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں کیونکہ حالیہ دنوں میں یہودی مقامات پر آتشزدگی اور چاقو کے حملے بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












