طالبان رجیم نے تنقیدی آوازیں دبانے کیلئے افغانستان میں انٹرنیٹ کی بندش شروع کردی

طالبان رجیم نے ملک میں اپنے خلاف اٹھنے والی تنقیدی آوازوں اور عوامی مزاحمت کو کچلنے کے لیے ملک گیر ڈیجیٹل بلیک آؤٹ اور انٹرنیٹ بندش کا ایک نیا طویل مدتی سنسرشپ منصوبہ تیار کر لیا ہے۔
افغانستان میں برسرِاقتدار طالبان رجیم کی جانب سے اپنے خلاف اٹھنے والی ہر قسم کی تنقیدی آوازوں کو ہمیشہ کے لیے دبانے اور اختلافِ رائے کو کچلنے کی ایک نئی اور منظم سازش بے نقاب ہو گئی ہے۔
افغان میڈیا کے معتبر جریدے ہشت صبح کی جانب سے شائع کی جانے والی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت نے پورے ملک میں معلومات تک رسائی کو روکنے کے لیے ایک ملک گیر ڈیجیٹل بلیک آؤٹ اور انٹرنیٹ کی سخت بندش جیسے جابرانہ ہتھکنڈے استعمال کرنا شروع کر دیے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں نظریاتی احتساب، بے جا جبر اور شہریوں کو دھمکیوں کے بعد اب انٹرنیٹ کی بندش اور ڈیجیٹل بلیک آؤٹ طالبان رجیم کے باقاعدہ حکومتی ایجنڈے کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے۔
طالبان حکومت کی جانب سے معلومات کے آزادانہ بہاؤ کو ہر قیمت پر روکنے کے لیے شروع کیے گئے اس ڈیجیٹل بلیک آؤٹ کا بنیادی مقصد اپنے جبری نظام کا تحفظ کرنا اور عوام میں موجود کسی بھی قسم کے اختلافِ رائے کو سختی سے دبانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : طالبان رجیم کے زیر سایہ پنپتی دہشت گردی یورپ کیلئے سنگین خطرہ بن گئی ہے، خفیہ رپورٹ
افغان جریدے ہشت صبح کا دعویٰ ہے کہ دارالحکومت کابل سے شروع کیا جانے والا یہ ڈیجیٹل بلیک آؤٹ منصوبہ درحقیقت طالبان رجیم کے خلاف اٹھنے والی کسی بھی ممکنہ عوامی یا ڈیجیٹل مزاحمت کو جڑ سے کچلنے کی ایک سوچی سمجھی کوشش ہے۔
افغانستان میں انٹرنیٹ کو محدود کرنے اور سوشل میڈیا پر پابندیاں لگانے کا اصل اور بنیادی مقصد یہ ہے کہ طالبان اپنی انتظامی ناکامیوں، انسانی حقوق کی پامالیوں، پرتشدد کارروائیوں اور افغان شہریوں پر کیے جانے والے مظالم کو دنیا کی نظروں سے چھپا سکیں۔
جریدے کا مزید کہنا ہے کہ طالبان کی جانب سے انٹرنیٹ کی بار بار بندش دراصل ایک نفسیاتی جنگ کا حصہ ہے، جس کا واحد مقصد دنیا کے سامنے افغانستان کے اندرونی حقائق اور ملک کی حقیقی تصویر کو آنے سے زبردستی روکنا ہے۔
دوسری جانب سیاسی و تکنیکی ماہرین کے مطابق افغانستان میں انٹرنیٹ کی یہ بندش اور ڈیجیٹل بلیک آؤٹ کا نفاذ طالبان رجیم کے اندر پھیلے ہوئے خوف، ان کی انتظامی کمزوری اور بوکھلاہٹ کا سب سے واضح ثبوت ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ طالبان رجیم کا یہ ڈیجیٹل سنسرشپ اور بلیک آؤٹ کا منصوبہ کوئی عارضی اقدام نہیں ہے بلکہ یہ افغانستان میں مستقل آمریت قائم رکھنے اور عوام کو ہمیشہ اندھیرے میں رکھنے کا ایک طویل مدتی ایجنڈا ہے، جس کے اثرات انتہائی خطرناک ہوں گے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












