اتوار، 24-مئی،2026
اتوار 1447/12/07هـ (24-05-2026م)

عالمی تجارت خطرے میں، آبنائے ہرمز بند ہونے پر خوراک بحران پیدا ہوسکتا ہے: ایف اے او

21 مئی, 2026 10:24

فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او) نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش آنے والے مہینوں میں عالمی سطح پر خوراک کے شدید بحران کو جنم دے سکتی ہے۔

ادارے کے مطابق اگر صورتحال برقرار رہی تو آئندہ 6 سے 12 ماہ میں مکمل عالمی خوراک بحران پیدا ہو سکتا ہے۔

ہرمز کے راستے عالمی تیل کی ترسیل کا تقریباً پانچواں حصہ اور کھاد کی سپلائی کا ایک تہائی حصہ گزرتا تھا، ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد یہ اہم گزرگاہ مؤثر طور پر بند ہو گئی ہے۔ اس کا سب سے پہلا اثر گرمیوں کی فصلوں کے لیے کھاد کی قلت کی صورت میں سامنے آئے گا جس سے زرعی پیداوار براہ راست متاثر ہوگی۔

ایف اے او کے چیف اکنامسٹ میکسیمو ٹوریرو نے واضح کیا کہ یہ کوئی عارضی مسئلہ نہیں بلکہ "زرعی و غذائی نظام کو باقاعدہ جھٹکا” ہے جو مرحلہ وار سامنے آ رہا ہے۔ بحران کے مراحل کچھ یوں ہوں گے، پہلے توانائی کی قلت، پھر کھاد اور بیجوں کی کمی، اس کے بعد پیداوار میں کمی، پھر اجناس کی قیمتوں میں اضافہ اور بالآخر خوراک کی مہنگائی۔ ادارے کا عالمی فوڈ پرائس انڈیکس پہلے ہی مسلسل تین ماہ سے بڑھ رہا ہے۔

ایف اے او نے ممالک سے اپیل کی ہے کہ متبادل زمینی و بحری راستے خاص طور پر جزیرہ نما عرب سے بحیرہ احمر تک استعمال کیے جائیں۔ توانائی اور کھاد کی برآمدات پر پابندیاں نہ لگائی جائیں اور غذائی امداد کو تجارتی پابندیوں سے مستثنیٰ رکھا جائے۔

پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ خبر انتہائی تشویشناک ہے جہاں کھاد کی قیمتیں اور خوراک کی مہنگائی پہلے سے عوام کی کمر توڑ رہی ہے، بین الاقوامی بحران کا اثر یہاں دوگنی شدت سے محسوس کیا جائے گا۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔