اسرائیل امریکی انٹیلی جنس اور میڈیا کو اپنے اشاروں پر نچا رہا ہے، جو کینٹ

جو کینٹ کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ دیکھنے کے بعد استعفیٰ دیا کہ اسرائیل کس طرح امریکی انٹیلی جنس، میڈیا اور صدر ٹرمپ کے مشیروں کو اپنے اشاروں پر نچا رہا ہے۔
امریکی انسداد دہشت گردی مرکز کے سابق سربراہ جو کینٹ نے ایک تقریب میں بتایا ہے کہ انہوں نے اپنے عہدے سے صرف اس لیے استعفیٰ دیا کیونکہ وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے کہ ایک غیر ملکی حکومت یعنی اسرائیل کس طرح امریکہ کو اپنی شرائط پر چلا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے امریکی انٹیلی جنس اداروں، ذرائع ابلاغ اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھیوں کو مکمل طور پر اپنے اشاروں پر نچایا تاکہ امریکہ کو اس نئی جنگ میں دھکیلا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں : یہودی لابی کا امریکی شہریوں پر فلسطینیوں سے جانوروں جیسا سلوک رکھنے کا دباؤ ہے، جینرک یوگر
جو کینٹ کا کہنا تھا کہ وہ مزید خاموش نہیں رہ سکتے تھے اور ان کے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ روزانہ امریکی فوجیوں کی لاشیں واپس آتے دیکھیں، اسی لیے انہوں نے سچ بولنے کا فیصلہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے جب وہ خصوصی فورسز اور امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے میں بطور آپریشنز افسر کام کر رہے تھے تو انہیں اسرائیلی لابی کی طاقت کا تھوڑا بہت اندازہ تھا، لیکن جب انہوں نے حکومت کے اعلیٰ ترین سطح پر کام کیا تو انہیں معلوم ہوا کہ یہ اثر و رسوخ کس قدر گہرا اور خوفناک ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عام امریکی عوام کو یہ پتہ چل جائے کہ اسرائیل اور اس کی لابی نے 9 ستمبر کے حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ کی جنگوں اور موجودہ جنگ میں امریکی فیصلوں کو کس حد تک اثر انداز کیا ہے، تو امریکی عوام شدید غصے میں آ جائیں گے۔
تاہم انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ اب بہت سے لوگ اس لابی کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں اور نئی نوجوان نسل میں یہ سچائی تیزی سے پھیل رہی ہے، جو مستقبل کے لیے ایک اچھا شگون ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










