جون میں بجلی صارفین کو بلوں میں فی یونٹ کتنا ریلیف ملے گا؟ خوشخبری سنادی گئی

Electricity users get June relief
پاور ڈویژن نے بجلی صارفین کو خوشخبری سناتے ہوئے کہا کہ رواں سال جون کے دوران صارفین کو مجموعی طور پر 20 پیسے فی یونٹ ریلیف ملے گا۔
پاور ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمت میں 1 روپے 73 پیسے فی یونٹ اضافہ کیا گیا ہے۔ تاہم سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی صورت میں 1 روپے 93 پیسے فی یونٹ کمی کی گئی۔ اس طرح صارفین کو مجموعی طور پر 20 پیسے فی یونٹ کا فائدہ حاصل ہوگا۔
پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ جون کے مہینے میں بجلی کے بنیادی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے دوران لاگو رہنے والے نرخوں کے برابر رہیں گے۔ حکومت کی کوشش رہی ہے کہ عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باوجود عوام پر اضافی بوجھ نہ ڈالا جائے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ شدید دباؤ کا شکار رہی۔ اس صورتحال کے نتیجے میں برینٹ کروڈ آئل کی متوقع قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک جانے کے خدشات پیدا ہوئے۔ اس کے باوجود حکومت نے بروقت فیصلوں کے ذریعے بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے بچانے کی کوشش کی۔
حکام کے مطابق اپریل کے مہینے میں بجلی کی قیمت میں 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافے کا امکان تھا۔ تاہم مختلف انتظامی اور تکنیکی اقدامات کے باعث اس اضافے کو محدود کرتے ہوئے 1 روپے 73 پیسے فی یونٹ تک رکھا گیا۔ اس حکمت عملی سے صارفین پر تقریباً 38 ارب روپے کا اضافی بوجھ منتقل ہونے سے بچ گیا۔
پاور ڈویژن نے کہا کہ محدود لوڈ مینجمنٹ، مقامی گیس کے زیادہ استعمال اور فرنس آئل کے مؤثر استعمال سے توانائی کے بحران کا بہتر انداز میں مقابلہ کیا گیا۔ اسی طرح سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1 روپے 93 پیسے فی یونٹ کمی سے مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا ریلیف صارفین کو ملے گا۔
اعلامیے کے مطابق بجلی کی ترسیل کے دوران لائن لاسز میں کمی اور طلب میں بہتری بھی ریلیف کا سبب بنی۔ متوقع بیس ٹیرف کے مقابلے میں 46 ارب روپے کی منفی ایڈجسٹمنٹ صارفین کے حق میں گئی، جس سے بجلی کے نرخوں کو قابو میں رکھنے میں مدد ملی۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












