کینیڈا کی اتحادی ممالک کے لیے 133 ارب ڈالر کا دفاعی بینک قائم کرنے کی تجویز

کینیڈا انقرہ میں ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس میں ایک عالمی دفاعی بینک قائم کرنے کے لیے 10 بانی ممالک کی حمایت حاصل کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔
کینیڈا اگلے ہفتے انقرہ میں ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس میں مجوزہ عالمی دفاعی بینک کے لیے لگ بھگ 10 بانی ممالک کی حمایت حاصل کرنے کے لیے سرگرم ہے۔ اگر مذاکرات حتمی شکل اختیار کر لیتے ہیں تو اس منصوبے کا باضابطہ اعلان اجلاس کے دوران متوقع ہے۔
کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی کی جانب سے پیش کردہ اس اقدام کا مقصد ‘ڈیفنس، سیکیورٹی اینڈ ریزیلینس بینک’ قائم کرنا ہے، تاکہ نیٹو ممالک میں بڑھتے ہوئے فوجی اخراجات کے درمیان اتحادی ممالک کو سستی شرح پر قرض فراہم کر کے دفاعی منصوبوں کی مالی اعانت کی جا سکے۔
اس منصوبے کے لیے کینیڈا کی چیف مذاکرات کار ازابیل ہوڈن کے مطابق، ابتدائی رکنیت میں بنیادی طور پر کینیڈا کے ساتھ یورپی ممالک شامل ہوں گے، جبکہ دیگر ممالک بعد میں شامل ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : میں نے ایران کو مکمل شکست دی اور پاک بھارت جنگ روک کر 3 کروڑ جانیں بچائیں، ٹرمپ
اس مجوزہ ادارے کا مقصد شریک ممالک کے درمیان دفاع اور سیکیورٹی کی سرمایہ کاری کے لیے 100 ارب پاؤنڈ، جو کہ لگ بھگ 133 ارب ڈالر بنتے ہیں، اکٹھے کرنا ہے۔
یہ تجویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب نیٹو ارکان نے اگلے 10 سالوں میں سیکیورٹی سے متعلق سرمایہ کاری بڑھانے کے عزم کے بعد دفاعی اخراجات میں اضافہ جاری رکھا ہوا ہے۔
مارک کارنی نے اس پروجیکٹ کو روایتی امریکی قیادت والے عالمی نظام کے گرد بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے باعث درمیانی طاقتوں کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے کی ایک وسیع کوشش کے طور پر پیش کیا ہے۔
جنوبی کوریا نے کینیڈا کے حکام کے ساتھ بات چیت کی ہے جبکہ جرمنی مبصر کے طور پر بات چیت میں حصہ لے رہا ہے۔ اٹلی، اسپین، ترکیہ، بیلجیم اور یوکرین سمیت کئی دیگر ممالک نے بھی اس تجویز کا جائزہ لیا ہے، لیکن اب تک کسی نے باضابطہ وعدہ نہیں کیا۔
دوسری جانب، برطانیہ نے نیدرلینڈز اور فن لینڈ کے ساتھ ایک الگ دفاعی فنانسنگ اقدام پر کام جاری رکھا ہوا ہے، تاہم کینیڈا کی تجویز کے ساتھ ممکنہ تعاون پر بات چیت جاری ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کی کامیابی کا انحصار بڑی معیشتوں کو راغب کرنے پر ہے تاکہ بڑے پیمانے پر قرضہ دینے کے لیے بہترین کریڈٹ ریٹنگ حاصل کی جا سکے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









