مودی کی سرپرستی میں بابری مسجد کی جگہ بننے والے رام مندر کے فنڈز میں اربوں کی چوری

عالمی جریدے بلومبرگ کی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ مودی کی سرپرستی میں رام مندر کے عطیات میں اربوں روپے کی کرپشن کی گئی، جس سے انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کو بڑا دھچکا لگا ہے۔
بھارت میں رام مندر کے فنڈز سے متعلق ہونے والی بدعنوانی کی تحقیقات نے مودی حکومت اور انتہا پسند ہندوتوا تنظیم آر ایس ایس کا سیاسی گٹھ جوڑ دنیا کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔
عالمی جریدے بلومبرگ کے مطابق، مندر کو نقد رقم، سونے اور چاندی کے زیورات کی صورت میں ماہانہ تقریباً 40 ملین سے 100 ملین روپے تک ملنے والے عوامی عطیات میں بڑے پیمانے پر کرپشن کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : مودی کے بھارت میں مسلم خواتین کی اے آئی کے ذریعے نازیبا تصاویر بنانے کی مہم
تحقیقات کے مطابق، رام مندر کے لیے عوام کی جانب سے دیے گئے عطیات کو نکال کر سیاسی مقاصد اور آر ایس ایس کے خزانوں میں منتقل کیا گیا ہے۔
بھارتی جریدے دی وائر نے مہاتما گاندھی کے قتل کے بعد اس میگا فراڈ کیس کو آر ایس ایس کے لیے اب تک کا سب سے بڑا چیلنج قرار دیا ہے۔ سیاسی رہنماؤں نے انکشاف کیا ہے کہ رام مندر میں کم از کم 20 ہزار کروڑ روپے کی کرپشن کی گئی ہے۔
اس چوری میں ملوث ٹرسٹ میں مودی حکومت کے نامزد کردہ افراد، وشو ہندو پریشد اور آر ایس ایس کے نمائندے شریک ہیں، جنہوں نے مذہب اور حکومت کے درمیان فرق ختم کر کے مالی بے ضابطگیوں کا ماحول بنایا۔
یاد رہے کہ بھارتی حکومت نے بابری مسجد کو شہید کر کے مسجد اور اس کے اطراف کی 67.7 ایکڑ اراضی پر زبردستی قبضہ کر کے رام مندر تعمیر کیا تھا اور اب اس کرپشن کیس کے بعد مودی حکومت اقتدار بچانے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










