تہران میں شہیدِ انقلاب آیت اللہ علی خامنہ ای کا آخری دیدار، دنیا بھر کے وفود کی آمد کا سلسلہ جاری

ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ کے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں، دنیا بھر کے وفود کی آمد کا سلسلہ جاری ہے، جو انہیں الوداعی خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔
امتِ مسلمہ کے عظیم رہنما اور ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے جسدِ مبارک کو آخری دیدار کے لیے حسینیہ امام خمینی میں لایا گیا، جہاں ان کے خانوادے، گھر والوں، سیکیورٹی کے دستوں اور پاسدارانِ انقلاب کے جوانوں نے آخری دیدار کیا۔
اس غمزدہ موقع پر ایرانی پاسداران کے جنرل واحدی اور دیگر اعلیٰ حکام موجود تھے، جبکہ شہدا کے اہلخانہ اور مقدس دفاع کے گارڈز نے انہیں الوداع کہا اور کربلا کے عظیم شہید امام حسین اور اہل بیت کے غم میں نوحہ خوانی بھی کی گئی۔
ان کی نمازِ جنازہ کے تمام انتظامات مکمل کرلیئے گئے ہیں، جبکہ شہید کے جسدِ خاکی کو تہران کے گرینڈ مصلیٰ امام خمینی منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کی 3 سالہ نواسی زہرا محمدی گلپایگانی کا جسدِ مبارک بھی پہنچایا گیا ہے، اس موقع پر رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے۔
یہ بھی پڑھیں : شہید سپریم لیڈر کے جنازے پر کارروائی کا خیال آئے تو دو بار سوچ لینا، ایرانی افواج کی اسرائیل و امریکہ کو وارننگ
ایرانی حکام کے مطابق ہفتے کے دن ادا کی جانے والی اس نمازِ جنازہ میں 2 کروڑ سے زائد افراد کی شرکت کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس کے بعد جسدِ خاکی کو تہران سے قم، پھر عراق کے شہروں نجف اور کربلا لے جایا جائے گا، اور آخر میں دوبارہ ایران لا کر مشہد مقدس میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔ حکومت کی جانب سے 8 جولائی کو ملک بھر میں سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔
شہید رہنما کو الوداع کہنے اور خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے دنیا بھر سے اعلیٰ وفود کی تہران آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے اپنے پیغام میں ایرانی صدر اور عوام سے سپریم لیڈر کی شہادت پر اظہار تعزیت کیا۔
پاکستان کے وزیر داخلہ سید محسن نقوی تہران پہنچے، جہاں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے ان کا استقبال کیا۔ اس کے علاوہ پاکستان سے شیعہ رہنماؤں بشمول سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف اور مجلس وحدت مسلمین کے چیئرمین علامہ راجہ ناصر عباس، قائدِ ملتِ جعفریہ علامہ ساجد علی نقوی، علامہ شبیر میثمی، علامہ جواد نقوی، ناصر عباس شیرازی اور فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے سیکرٹری جنرل صابر ابو مریم نے بھی تہران پہنچ کر خراجِ عقیدت پیش کیا۔
چین کی نیشنل پیپلز کانگریس کے ڈپٹی ہی وی، روس اور چین کے اعلیٰ وفود، بنگلہ دیشی پارلیمانی وفد اور جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کے نمائندوں نے بھی اظہار تعزیت کیا۔
ملائیشیا کے علماء نے آیت اللہ خامنہ ای کو ایک فیصلہ کن شخصیت قرار دیا، جبکہ عراقی پارلیمنٹ کے اسپیکر ہیبت الحلبوسی، لبنان کی قومی جماعتوں کے رہنماؤں، عراقی کردستان کے قبائلی شیوخ اور پارلیمانی ارکان، روس کے مسلم علماء، جارجیا کے مسلمانوں اور مزاحمتی فرنٹ کے تعلیمی و اشرافیہ کے وفود کے علاوہ اسپین، برازیل، ارجنٹائن، کولمبیا، ایکواڈور، بولیویا اور نکاراگوا کے ثقافتی و میڈیا کارکنوں نے بھی مصلیٰ امام خمینی پہنچ کر شہیدِ ملت کو الوداع کیا۔
فلسطین کے شیوخ اور علماء نے بھی القدس کے حامی اور سرپرست رہنما کے جسدِ مبارک کے سامنے حاضر ہو کر عقیدت کا اظہار کیا۔
ڈاکٹر غلام علی حداد عادل، جو کہ امام سید مجتبیٰ خامنہ ای کی شہید اہلیہ زہرا حداد عادل کے والد ہیں، نے بھی دیگر حکام کے ہمراہ الوداعی تقریب میں شرکت کی ہے اور یہ مناظر دل دہلا دینے والے ہیں۔ مختلف ممالک کے وفود کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔
آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے تہران پر بمباری کر کے شہید کر دیا تھا، جس میں ان کی بہو اور موجودہ سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی اہلیہ بھی شہید ہوئی تھیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









