نریندر مودی کو ملنے والے ایوارڈز اے آئی سے تیار کردہ اور سستی مقبولیت کا ڈھونگ ہیں، خواجہ آصف

خواجہ آصف نے برطانوی اخبار کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ نریندر مودی مصنوعی ذہانت سے بنے سستے ایوارڈز حاصل کر کے بھارتی قوم کے لیے عالمی سطح پر شرمندگی کا باعث بن رہے ہیں۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر برطانوی اخبار ‘دی گارڈین’ کی ایک خصوصی رپورٹ پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
اس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنے غیر ملکی دوروں کے دوران ایوارڈز جمع کرنے کی عادت ہے، جن میں سے کچھ ایوارڈز ایسے ہیں، جو صرف ان ہی کے لیے بنائے گئے اور وہ دنیا میں ان کے واحد وصول کنندہ ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ یہ تاریخ کی سب سے زیادہ شرمناک کہانی ہے کیونکہ یہ ایوارڈز مودی کی آمد سے محض 2 دن پہلے تیار کیے جاتے ہیں، ان کے سرٹیفکیٹس سستے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ماڈلز کے ذریعے پرنٹ کیے جاتے ہیں، جن میں املا کی واضح غلطیاں ہوتی ہیں اور پھر مودی اس کے پہلے اور واحد وصول کنندہ بن جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : مودی کا ایرانی سپریم لیڈر کی آخری رسومات میں جانے سے انکار، بھارتی دوغلی پالیسی عیاں
وزیر دفاع نے کہا کہ یہ بناوٹی اعزازات یا تو سستی مقبولیت کی بدترین قسم ہے یا پھر بدنیتی پر مبنی تسکین ہے۔
خواجہ آصف نے سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نریندر مودی بھارتی قوم کو دنیا بھر میں شرمندہ کر رہے ہیں اور وہ خود ایک قومی شرمندگی بن چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میرے خلاف مہم چلانے یا مجھے ذہنی طور پر غیر مستحکم کہنے سے مودی کا مسئلہ حل نہیں ہوگا اور نہ ہی اس سے مودی کی اس گرتی ہوئی ساکھ کو سہارا ملے گا، جو پچھلے سال پاکستان سے مار کھانے کے بعد ملک اور بیرون ملک بری طرح تباہ ہو چکی ہے۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ خود بھارت کے اندر اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی بھی مودی کے ان ایوارڈز کے بارے میں یہی کہہ رہے ہیں کہ یہ سب مصنوعی ذہانت سے خود تیار کردہ ہیں تاکہ مودی کا ایک عالمی لیڈر کا امیج بنایا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس ڈھونگ نے حقیقت میں مودی کی ساکھ کو ایک عالمی فراڈیے کے طور پر ابھارا ہے۔ ایک معتبر اخبار نے بھی اس پر سوالات اٹھائے ہیں۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












