ہفتہ، 4-جولائی،2026
ہفتہ 1448/01/19هـ (04-07-2026م)

مودی کا ایرانی سپریم لیڈر کی آخری رسومات میں جانے سے انکار، بھارتی دوغلی پالیسی عیاں

04 جولائی, 2026 10:41

ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی عدم شرکت کے حوالے سے مختلف میڈیا رپورٹس اور سیاسی تجزیوں میں بحث جاری ہے۔ اس معاملے پر بھارت کے اندر اور بیرونِ ملک سیاسی و سفارتی حلقوں میں مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس موقع پر بھارت کی نمائندگی ایک جونیئر وزیر مملکت برائے خارجہ اور صوبائی گورنر نے کی، جسے بعض حلقے کم سطحی سفارتی نمائندگی قرار دے رہے ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اس فیصلے کو بھارت کی خارجہ پالیسی میں ترجیحات کے تضاد کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک طرف بھارت ایران کے ساتھ توانائی، تجارت اور علاقائی تعاون کے معاہدوں کا خواہاں ہے، جبکہ دوسری طرف اعلیٰ سطحی سفارتی شرکت سے گریز کیا جا رہا ہے، جس سے “دوغلی پالیسی” کا تاثر پیدا ہو رہا ہے۔

بھارت کے اندر بھی اس معاملے پر مختلف آراء سامنے آئی ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق اس نوعیت کے فیصلے بین الاقوامی دباؤ اور عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کے توازن کو مدنظر رکھ کر کیے جاتے ہیں، تاہم ناقدین اسے سفارتی کمزوری قرار دے رہے ہیں۔

کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت کو مشرقِ وسطیٰ جیسے حساس خطے میں اپنے روایتی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو مزید واضح اور مستقل بنیادوں پر استوار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی قسم کی سفارتی ابہام سے بچا جا سکے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور بھارت کے درمیان تعلقات تاریخی طور پر توانائی، تجارت اور علاقائی رابطوں کے لحاظ سے اہم رہے ہیں۔ ایسے میں کسی بھی اعلیٰ سطحی تقریب میں شرکت یا عدم شرکت اکثر سفارتی اشارے کے طور پر دیکھی جاتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ وفود کی سطح کا تعین صرف سیاسی جذبات نہیں بلکہ سفارتی پروٹوکول، علاقائی حالات اور دوطرفہ ترجیحات کے مطابق کیا جاتا ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔