شہید علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے پیچھے چھپی مذہبی، سیاسی اور نظریاتی اہمیت

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں ایرانی حکومت کی جانب سے مذہبی، سیاسی اور نظریاتی پیغامات کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کا آغاز تہران میں 3 روزہ سوگ کے ساتھ ہوا، جس کے بعد ان کے جسدِ خاکی کو ایران اور عراق کے مختلف شہروں سے گزارا جا رہا ہے۔
علی خامنہ ای 1989 سے 28 فروری کو امریکی و اسرائیلی فضائی حملے میں اپنی شہادت تک ایران کے سپریم لیڈر رہے، جس کے بعد مارچ میں ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای نے اقتدار سنبھالا۔ تقریب کا باضابطہ نعرہ ’’ہمیں اٹھنا ہوگا‘‘ رکھا گیا ہے، جو قرآنی آیت سے ماخوذ ہے۔
اس پوری تقریب میں علامات کا استعمال بہت گہرا ہے۔ شہید خامنہ ای کی بند مٹھی کی تصویر، جو سرخ اور سیاہ پس منظر کے ساتھ استعمال ہو رہی ہے، انتقام اور سوگ کی علامت ہے۔
یہ تصویر مجتبیٰ خامنہ ای کے ایک پیغام سے جڑی ہے، جو خود سیکیورٹی خدشات کی بنا پر اپنے والد کے جنازے میں شریک نہیں ہوئے۔
تہران کے مصلّٰی الکبیر پر لہرایا گیا بڑا سرخ جھنڈا، جس پر ’’اے حسین کے خون کا بدلہ لینے والے‘‘ لکھا ہے، اس واقعے کو کربلا سے جوڑتا ہے، جس کا مقصد امریکا اور اسرائیل کے خلاف کارروائی کو مذہبی فریضہ بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : امریکا اور اسرائیل مزاحمتی بلاک کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئے، ایرانی اسپیکر
آخری رسومات کے لیے منتخب کیا گیا، روٹ بھی ایک سیاسی اور مذہبی نقشہ پیش کرتا ہے۔ یہ روٹ قم، نجف، کربلا اور مشہد پر مشتمل ہے، جو اہل تشیع کے لیے انتہائی مقدس مقامات ہیں۔
قم سے آغاز علما کی تائید اور 1979 کے انقلاب کی یاد تازہ کرتا ہے، جبکہ عراق کے شہر نجف اور کربلا کے ذریعے ایران اپنے مذہبی اثر و رسوخ کو سرحد پار پھیلانے کا پیغام دے رہا ہے۔
اس کے علاوہ، مزاحمتی بلاک یعنی حزب اللہ، حماس، اسلامک جہاد اور حوثی رہنماؤں کی تہران میں موجودگی ایران کی علاقائی طاقت کا مظاہرہ ہے۔
رسومات کے دوران مختلف ممالک کے وفود کے لیے مخصوص قرآنی آیات کا انتخاب بھی سیاسی معنی رکھتا ہے۔ حماس اور حزب اللہ کے لیے وفاداری اور ثابت قدمی کی آیات پڑھی گئیں، جبکہ پاکستان کو ایک برادر ملک قرار دیا گیا، جو واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات میں ثالثی کر رہا ہے۔
سب سے زیادہ توجہ سعودی عرب کے وفد کے لیے منتخب کی گئی آیت پر دی گئی، جس میں جنگِ بدر کا ذکر ہے، جہاں مومنین نے اپنے سے دگنی تعداد کے دشمن کا سامنا کیا تھا، جسے تجزیہ کار مختلف سیاسی تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔
Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











