امریکا اور اسرائیل مزاحمتی بلاک کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئے، ایرانی اسپیکر

ایرانی اسپیکر نے حوثی رہنما سے ملاقات میں امریکا کے ساتھ معاہدے کو مزاحمتی بلاک کی بڑی سیاسی اور فوجی فتح قرار دیا ہے۔
ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے یمن کی حوثی سپریم پولیٹیکل کونسل کے وائس چیئرمین محمد النعیمی سے ایک اہم ملاقات کی ہے۔
اس ملاقات کے دوران انہوں نے امریکا کے ساتھ دستخط ہونے والی مفاہمت کی یادداشت کو تہران کے مزاحمتی بلاک کے لیے ایک تاریخی اور عظیم کامیابی قرار دیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق باقر قالیباف نے کہا کہ اس معاہدے کے بعد امریکا اور اسرائیل عملی طور پر مزاحمتی بلاک میں شامل ایران کے تمام اتحادیوں کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں، اور یہ اس مفاہمت کی یادداشت کا سب سے بڑا فائدہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان نے علی خامنہ ای شہید کے جنازے میں سب سے بڑے وفد کے ساتھ شرکت کی، ایرانی سفیر کا اظہار تشکر
ایرانی اسپیکر نے اس معاہدے کو امریکا کی بدترین شکست اور مزاحمتی بلاک کی فوجی و سیاسی فتح قرار دیا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایک مضبوط سفارت کاری کا دارومدار ہمیشہ مکمل فوجی تیاری پر ہوتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکا اور اسرائیل نے ایران کی جانب سے کسی بھی قسم کی کمزوری محسوس کی، تو وہ فوری طور پر دوبارہ جنگ کا راستہ اختیار کر لیں گے، اس لیے عسکری تیاری کو ہر وقت برقرار رکھنا ہوگا۔
واضح رہے کہ ایران کے علاقائی مسلح گروپوں کے نیٹ ورک، جسے ‘مزاحمتی بلاک’ کہا جاتا ہے، اس میں لبنان کی حزب اللہ، یمن کے حوثی، غزہ کی حماس اور عراق کے مختلف عسکری گروپ شامل ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












