عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں کا مستقبل اب چین کے فیصلوں پر منحصر ہے، ماہرین

توانائی کے ماہرین اور عالمی تجزیوں کے مطابق، امریکہ اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کو مستقل طور پر کھولنے کے مذاکرات کے باوجود، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کے مستقبل کا دارومدار اب چین پر ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور مڈل ایسٹ کے تیل کی سپلائی بحال کرنے کے لیے مذاکرات جاری ہیں، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ مارکیٹ کی اگلی صورتحال کا دارومدار چین پر ہے۔
چین دنیا میں تیل استعمال کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے، جس نے ایران کی جنگ کے دوران سپلائی متاثر ہونے کے باوجود اپنے وسیع ذخائر اور صاف توانائی کا استعمال کر کے قیمتوں کو کنٹرول میں رکھا۔
اگرچہ جنگ کے آغاز پر تجزیہ کاروں نے پیش گوئی کی تھی کہ خام تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے، لیکن قیمتیں نسبتاً مستحکم رہیں۔
پیر کے روز برینٹ کروڈ کی قیمت 78 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئی کیونکہ یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ آبنائے ہرمز سے جلد ہی تجارت بحال ہو جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں : ایران پر سے تیل اور پیٹروکیمیکل کی برآمدات کی تمام پابندیاں ختم کر دی گئیں، عباس عراقچی
ماہرین کا کہنا ہے کہ 1973 کے عرب بائیکاٹ کے دوران صرف 7 فیصد سپلائی رکنے پر قیمتیں 134 فیصد بڑھ گئی تھیں، لیکن اس بار ایران کی جنگ سے 14 فیصد سپلائی متاثر ہونے کے باوجود قیمتیں اس طرح نہیں بڑھیں۔
اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ چین نے اپنی درآمدات میں روزانہ 30 لاکھ بیرل کی کمی کی، جو جاپان کی کل ضرورت کے برابر ہے۔
چین کے پاس اس وقت تجارتی اور تزویراتی ذخائر میں ایک ارب بیرل سے زیادہ تیل موجود ہے۔ اس کے علاوہ، چین میں الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کی وجہ سے پچھلے سال تیل کی کھپت میں روزانہ 10 لاکھ بیرل کی کمی آئی۔
عالمی توانائی ایجنسی نے اب یہ انتباہ جاری کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز جلدی کھل جاتی ہے تو مارکیٹ میں 10 کروڑ بیرل اضافی تیل آ جائے گا، جس سے اگلے سال سپلائی مانگ کے مقابلے میں 47 لاکھ بیرل روزانہ زیادہ ہو سکتی ہے اور قیمتیں مزید گر سکتی ہیں۔
Catch all the تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












