پنجاب میں سرکاری اسکولوں کی آؤٹ سورسنگ کا دائرہ مزید وسیع

Government's Major Education Decision
پنجاب حکومت نے سرکاری اسکولوں کی آؤٹ سورسنگ پالیسی کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے تیسرے مرحلے میں 2 ہزار 682 مزید سرکاری اسکول نجی شعبے کے حوالے کر دیے ہیں۔
اس نئے مرحلے کے بعد صوبے بھر میں آؤٹ سورس کیے گئے سرکاری اسکولوں کی مجموعی تعداد تقریباً 13 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد تعلیمی معیار بہتر بنانا، طلبہ کی تعداد میں اضافہ کرنا اور اسکولوں کے انتظامی نظام کو مزید مؤثر بنانا ہے۔
سرکاری حکام کے مطابق تیسرے مرحلے کے تحت نجی اداروں کے سپرد کیے گئے اسکولوں میں باقاعدہ تدریسی سرگرمیوں کا آغاز 23 اگست سے کیا جائے گا۔ ان اسکولوں میں ضروری انتظامات مکمل کیے جا رہے ہیں تاکہ نئے تعلیمی سیشن کا آغاز مقررہ وقت پر ہو سکے۔ حکومت کو امید ہے کہ نجی شعبے کی شمولیت سے طلبہ کو بہتر تعلیمی ماحول، معیاری تدریس اور جدید سہولیات فراہم کی جا سکیں گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ آؤٹ سورسنگ کے لیے ایسے اسکولوں کا انتخاب کیا گیا جہاں طلبہ کی تعداد کم تھی یا تعلیمی نتائج مطلوبہ معیار کے مطابق نہیں تھے۔ نجی اداروں کو ان اسکولوں کی کارکردگی بہتر بنانے، داخلوں میں اضافہ کرنے اور تعلیمی ماحول کو فعال بنانے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
تیسرے مرحلے میں لاہور کے 42 سرکاری اسکول بھی آؤٹ سورسنگ پروگرام میں شامل کیے گئے ہیں۔ اسکولوں کی تقسیم کے لیے واضح کوٹہ مقرر کیا گیا۔ اس کے تحت 40 فیصد اسکول غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کو دیے گئے، جبکہ 35 فیصد حصہ انٹرپرینیورز کے لیے مختص کیا گیا۔ باقی اسکول دیگر اہل درخواست گزاروں کو مقررہ قواعد و ضوابط کے مطابق الاٹ کیے گئے تاکہ شفافیت برقرار رہے۔
دوسری جانب پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن (PEF) نے ایسے اداروں کو بھی موقع فراہم کیا ہے جو اس مرحلے میں اسکول حاصل نہیں کر سکے۔ ایسے درخواست گزار 10 جولائی تک اپیل دائر کر سکتے ہیں۔ تاہم اپیل جمع کروانے کے لیے 20 ہزار روپے فیس مقرر کی گئی ہے۔ مقررہ تاریخ کے بعد موصول ہونے والی کسی بھی درخواست یا اپیل کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
Catch all the تعلیم News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










