ہفتہ، 4-جولائی،2026
ہفتہ 1448/01/19هـ (04-07-2026م)

پنجاب میں غیر رجسٹرڈ اسکولوں اور اکیڈمیوں کے خلاف کریک ڈاؤن

04 جولائی, 2026 13:39

پنجاب حکومت نے غیر رجسٹرڈ نجی اسکولوں اور اکیڈمیوں کے خلاف بھرپور کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔

وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات کی ہدایت پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹیز نے صوبے بھر میں ایسے تعلیمی اداروں کو نوٹس جاری کرنا شروع کر دیے ہیں جو تاحال رجسٹرڈ نہیں ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ تمام نجی تعلیمی اداروں کو قانون کے مطابق رجسٹریشن کرانا لازمی ہوگا۔

سرکاری حکام کے مطابق کارروائی کے پہلے ہی روز 744 غیر رجسٹرڈ اسکولوں اور اکیڈمیوں کو نوٹس جاری کیے گئے۔ ان اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ تین روز کے اندر اپنی رجسٹریشن مکمل کریں۔ اگر مقررہ مدت میں رجسٹریشن نہ کروائی گئی تو ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے واضح کیا ہے کہ اس معاملے میں زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کی جائے گی۔ پنجاب پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز آرڈیننس 1984 کے تحت ہر نجی تعلیمی ادارے کے لیے رجسٹریشن لازمی ہے۔ بغیر رجسٹریشن کے اسکول یا اکیڈمی چلانا قانون کی خلاف ورزی ہے اور ایسے اداروں کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔

حکام کے مطابق غیر رجسٹرڈ تعلیمی ادارے چلانے والوں پر 3 لاکھ روپے سے لے کر 40 لاکھ روپے تک جرمانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے۔ یہ اقدام طلبہ کے مفاد، تعلیمی معیار اور نجی تعلیمی اداروں کی مؤثر نگرانی کو یقینی بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

وزیر تعلیم نے بتایا کہ محکمہ تعلیم کے ریکارڈ کے مطابق صوبے میں اب بھی سینکڑوں نجی اسکول رجسٹریشن کے بغیر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے تمام اداروں کے مالکان کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر رجسٹریشن کے لیے درخواست جمع کروائیں تاکہ کسی قسم کی قانونی کارروائی سے بچا جا سکے۔

حکومت نے بلڈنگ فٹنس سرٹیفکیٹ کو بھی لازمی قرار دیا ہے۔ وزیر تعلیم کے مطابق کوئی بھی نجی تعلیمی ادارہ اس سرٹیفکیٹ کے بغیر نہیں چل سکے گا۔ تمام اسکولوں کو اپنی عمارت کی حفاظت اور فٹنس سے متعلق سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ہوگا، جبکہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹیز کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس شرط پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔

Catch all the تعلیم News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔