اتوار، 26-جولائی،2026
اتوار 1448/02/12هـ (26-07-2026م)

امریکی میزائل ذخائر میں شدید کمی، ایران جنگ وائٹ ہاؤس کے لیے بڑا چیلنج بن گئی

26 جولائی, 2026 11:38

امریکہ کے میزائل ذخائر پر بڑھتا ہوا دباؤ وائٹ ہاؤس کے اندر ایک بڑی پریشانی کا باعث بن رہا ہے، جس سے ایران کے ساتھ جاری تنازع میں امریکی ملٹری کی طویل المدتی صلاحیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

ایران اور امریکہ کے درمیان جاری معرکے میں جدید ایئر ڈیفنس انٹرسیپٹرز اور گائیڈڈ ہتھیاروں کا بے دریغ استعمال ٹرمپ انتظامیہ کے لیے سنگین مسائل پیدا کر رہا ہے۔

سب سے بڑی تشویش یہ ہے کہ پیٹریاٹ اور تھاڈ سسٹمز کے انٹرسیپٹرز جس رفتار سے استعمال ہو رہے ہیں، امریکی دفاعی صنعت اس رفتار سے انہیں تیار کرنے میں ناکام ہے۔

یہ بھی پڑھیں : باب المندب : ایٹم بم سے بھی زیادہ خطرناک ہتھیار، ایران نے سب سے کمزور رگ پر ہاتھ رکھ دیا

طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں جن میں ٹوماہاک کروز میزائل اور جدید فضائی میزائل شامل ہیں، ان کی دستیابی بھی محدود ہو رہی ہے۔

ایک ممتاز دفاعی ریسرچ ادارے کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، جنگ کے دوران ایک ہزار سے زائد ٹوماہاک کروز میزائل اور گیارہ سو سے زیادہ جدید ایئر لانچڈ میزائل استعمال کیے جا چکے ہیں، جن کی دوبارہ تیاری میں کئی سال کا عرصہ درکار ہوگا۔

ایئر ڈیفنس سسٹمز کے لیے حالات اور بھی خراب ہیں، کیونکہ تھاڈ، ایس ایم 3 اور پیٹریاٹ جیسے سسٹمز کی جگہ نئے سسٹمز تیار کرنے میں 5 سال تک کا وقت لگ سکتا ہے۔

امریکی ملٹری نے انڈو پیسیفک سمیت دیگر خطوں سے بھی انٹرسیپٹرز کو مشرق وسطیٰ منتقل کیا ہے۔ جس سے دیگر اہم علاقوں میں دفاعی خلا پیدا ہو رہا ہے۔ مسئلہ صرف بجٹ کا نہیں بلکہ ان پیچیدہ ہتھیاروں کی تیاری میں لگنے والا طویل وقت ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔