منگل، 28-جولائی،2026
منگل 1448/02/14هـ (28-07-2026م)

افغانستان میں طالبان کیخلاف مسلح مزاحمت تیز، 2 ہزار سے زائد نوجوان مزاحمتی تنظیموں میں شامل

28 جولائی, 2026 11:41

افغانستان میں طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت میں شدید اضافہ ہو گیا، ہزاروں نوجوان مزاحمتی تنظیموں میں شامل ہو رہے ہیں۔

افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف مسلح مخالف گروہوں کی پرتشدد جھڑپوں نے تمام علاقوں پر کامل کنٹرول کے سرکاری دعوؤں کی حقیقت واضح کر دی ہے۔

نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے اعلان کیا ہے کہ افغان نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد طالبان کی انتظامیہ کے خلاف ان کی صفوں میں شامل ہو رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : افغانستان میں دہشتگرد گروہوں کی سرگرمیاں جاری، طالبان رجیم کی ناکامی پر امریکی محکمہ خارجہ کا دوٹوک مؤقف

تنظیم کے مطابق بدخشاں، بلخ اور پنجشیر سمیت مختلف علاقوں سے 2 ہزار سے زائد نوجوانوں نے مختلف مزاحمتی گروہوں کا دامن تھام لیا ہے۔ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کا کہنا ہے کہ بدخشاں کے علاقے اب مقامی باشندوں کے کنٹرول میں جا رہے ہیں۔

دوسری طرف افغان صحافی عثمان بازگر کی ایک رپورٹ کے مطابق فریڈم فرنٹ نے زیباک کے مقام پر واقع طالبان کی ایک اہم سیکیورٹی چوکی پر اپنے قبضے کا دعویٰ کیا ہے۔

سابق افغان سفارت کار فیاض غیاثی نے موجودہ حاکموں کی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں بنیادی آزادیوں کو سلب کر لیا گیا ہے، تاہم بدخشاں کے علاوہ شمال اور شمال مشرقی خطوں کے صوبوں کو جلد آزاد کرا لیا جائے گا۔

ان حالیہ عسکری جھڑپوں نے طالبان کے ملک میں امن قائم کرنے کے دعوؤں پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔