افغانستان میں طالبان مخالف مسلح مزاحمت میں شدت، فاریاب میں نئے گروپ لبریشن فرنٹ کا اعلان

افغانستان میں طالبان کے خلاف نئے مسلح گروپ لبریشن فرنٹ کے قیام کا اعلان کردیا گیا، فاریاب، غورمچ اور بدخشان میں حملے تیز ہو گئے۔
افغانستان میں طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت کا دائرہ کار تیزی سے وسیع ہو رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق صوبہ فاریاب میں گل محمد پہلوان کی قیادت میں طالبان مخالف ایک نئے مسلح گروپ جبه راہِ بخش (لبریشن فرنٹ) کے قیام کا اعلان کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کا بتانا ہے کہ صوبہ فاریاب میں پیر کے روز طالبان کے خلاف ہونے والی کارروائی لبریشن فرنٹ کے جنگجوؤں ہی نے کی تھی اور یہ نیا گروپ آئندہ چند دنوں میں اعلامیہ جاری کر کے اپنی تنظیمی ساخت اور باضابطہ سرگرمیوں کا اعلان کرے گا۔
اس کے علاوہ غورمچ ضلع میں بھی طالبان پر ایک اور بڑا حملہ کیا گیا ہے۔ افغانستان میں طالبان حکومت کے ظالمانہ طرزِ حکومت، نسلی امتیاز، کرپشن اور شریعت کے نام پر جبر کے خلاف افغان عوام کی شدید بے چینی اب کھل کر سامنے آنے لگی ہے۔
تعلیم، روزگار اور بنیادی انسانی حقوق پر عائد شدید پابندیوں کے باعث نہ صرف اندرون ملک مزاحمت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے بلکہ افغان شہریوں کی یورپ کی طرف نقل مکانی کے رجحان میں بھی بڑا اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : سابق افغان جنرل سمیع سادات کا طالبان حکومت کے خلاف مسلح کارروائیوں کا اعلان
دوسری جانب صورتحال یہ ہے کہ پچھلے 3 ماہ کے دوران طالبان کے ہاتھوں 186 سابق افغان فوجی اہلکاروں کی ہلاکت کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔
گل محمد پہلوان کی قیادت میں اس نئے محاذ کا قیام طالبان مخالف دھڑوں کی مسلسل وسعت کی واضح عکاسی کرتا ہے۔ اس سے قبل افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کے سربراہ جنرل سمیع سادات بھی طالبان کے خلاف مسلح جدوجہد کا باضابطہ اعلان کر چکے ہیں، جبکہ افغانستان فریڈم فرنٹ کے جنرل یاسین ضیا نے بھی مزاحمت مزید تیز کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ان تمام طالبان مخالف محاذوں میں آپس میں ممکنہ ہم آہنگی کی بڑی توقع کی جا رہی ہے۔
حالیہ ہفتوں کے دوران بدخشان کے اضلاع یفتل، زیبک اور ارگو میں طالبان مخالف کارروائیوں کے بعد اب صوبہ فاریاب بھی مسلح مزاحمت کی نئی سرگرمیوں کا مرکزی نقطہ بن چکا ہے۔
اس سے قبل بغلان کے ضلع دوشی میں طالبان کے ایک قافلے پر حملے اور بدخشان میں متعدد طالبان چوکیوں پر کی جانے والی کارروائیوں کی ذمہ داری بھی مختلف مزاحمتی گروپس قبول کر چکے ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











