جب تک واضح نہیں ہوتا ایرانی پائلٹوں کو قطر کا قیدی سمجھا جائے گا، ایرانی وزارت خارجہ

ایرانی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ گمشدہ ایس یو 24 طیاروں کے پائلٹوں کے بارے میں جب تک صورتحال واضح نہیں ہوتی، انہیں قطر کی تحویل میں قید فرض کیا جائے گا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اپنی ہفتہ وار پریس کانفرنس کے دوران بتایا ہے کہ ملک کے چار بہادر پائلٹوں کی معمہ بنی صورتحال کو معلوم کرنے کے لیے ہر ممکن سفارتی اور عالمی راستہ استعمال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک ان پائلٹوں کی حتمی حالت کے بارے میں واضح معلومات سامنے نہیں آ جاتیں، تب تک انہیں قطر کی تحویل میں قید ہی فرض کیا جائے گا۔
اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ایران اس معاملے پر قطر کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور قطری حکام تک اپنے خدشات اور مطالبات پہنچا دیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : ایران نے گھٹنے نہیں ٹیکے، امریکہ سے معاہدہ رہبر کے اصولوں کے مطابق ہے، ایرانی صدر کا مخالفین کو جواب
انہوں نے مزید بتایا کہ امریکی اور اسرائیلی جارحیت کے جواب میں دفاعی کارروائی کرنے والے پائلٹوں کی تلاش کے لیے جنگ کے ابتدائی دنوں سے ہی اقدامات شروع کر دیے گئے تھے اور 16 مارچ کو ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کو پہلا مراسلہ بھی بھیجا گیا تھا۔
28 فروری کو شروع ہونے والی امریکی اور اسرائیلی جارحیت کے جواب میں ایرانی فضائیہ کے ایس یو 24 بمبار طیاروں نے قطر میں واقع العُدید ایئر بیس پر حملہ کیا تھا، جو خطے میں امریکی فوج کا بنیادی مرکز ہے۔
واپسی کے راستے میں خلیج فارس کے اوپر ایرانی طیاروں کو دشمن کے ایئر ڈیفنس سسٹم نے نشانہ بنایا۔ ایرانی فوج نے بعد میں ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے ایک پائلٹ سیکنڈ بریگیڈیئر جنرل مجید کاظمی کی شہادت کی تصدیق کر دی تھی۔
مسلح افواج کی ٹیم کے مطابق دیگر 3 پائلٹ جواد صالحی، عبدالمجید دشتیان اور عمران بہروزیان قطری فورسز کی تحویل میں زندہ موجود ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












