بدھ، 9-ستمبر،2026
منگل 1448/03/26هـ (08-09-2026م)

میر رضا کیس: جوڈیشل کمیشن میں ڈاکٹر سمیعہ سید کا اہم بیان، پولیس افسران کے نام زیرِ بحث

08 ستمبر, 2026 19:05

کراچی: میر رضا کی ہلاکت کے معاملے کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کے سامنے ڈاکٹر سمیعہ سید نے اہم بیان ریکارڈ کراتے ہوئے پولیس کے اعلیٰ افسران سے کیس سے متعلق ہونے والی گفتگو کی تفصیلات بیان کر دیں۔

ڈاکٹر سمیعہ سید نے کمیشن کو بتایا کہ ایڈیشنل آئی جی آزاد خان سے ذاتی وجوہات کی بنا پر رابطہ ہوا تھا اور گفتگو کے اختتام پر کیس سے متعلق بات ہوئی۔

ان کے مطابق آزاد خان نے واقعے کو خودکشی کا کیس قرار دیا، تاہم انہوں نے جواب دیا کہ ان کی فائنڈنگز اس مؤقف سے مطابقت نہیں رکھتیں۔

ڈاکٹر سمیعہ نے بتایا کہ ایڈیشنل آئی جی آزاد خان سے کیس کے حوالے سے تقریباً 10 سے 15 سیکنڈ تک بات ہوئی۔

انہوں نے کمیشن کو مزید بتایا کہ 2 اگست کو ڈی آئی جی ڈاکٹر فرخ اور ایس ایس پی ایسٹ زبیر نذیر کے ساتھ کیس سے متعلق اپنی آبزرویشن شیئر کی، جبکہ 4 اگست کو ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو کو پوسٹ مارٹم سے اختلاف اور گولی کے داخلے اور اخراج کے مقام سے متعلق کنفیوژن سے آگاہ کیا۔

ڈاکٹر سمیعہ کے مطابق 5 اگست کو ہونے والی میٹنگ میں بھی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر گفتگو ہوئی، جبکہ پولیس افسران کا اصرار تھا کہ گولی سینے پر لگی تھی۔

انہوں نے کہا کہ یکم اگست کو میڈیا میں پولیس سرجن کے نام سے یہ خبر سامنے آئی کہ گولی سینے پر لگی اور جلنے کا نشان موجود نہیں تھا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے کبھی یہ الفاظ استعمال نہیں کیے اور نہ ہی گولی سینے پر لگنے کی بات کی تھی۔

ڈاکٹر سمیعہ سید نے مزید بتایا کہ لاش پر ڈی کمپوزیشن موجود تھی، تاہم جس چیز کو ڈی کمپوزیشن قرار دیا جا رہا تھا، وہ دراصل ڈی کمپوزیشن نہیں تھی۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔