امریکہ کی جانب سے ایرانی ایوی ایشن انڈسٹری پر نئی اور سخت اقتصادی پابندیاں عائد

امریکی حکومت نے معاشی دباؤ کی مہم کو تیز کرتے ہوئے ایران کے ایوی ایشن کے پورے شعبے پر سخت پابندیاں عائد کر کے اسے عالمی مالیاتی نظام سے کاٹنے کا اعلان کر دیا۔
امریکی ٹرمپ انتظامیہ نے تہران پر زیادہ سے زیادہ معاشی دباؤ ڈالنے کی پالیسی کے تحت ایران کی ایئرلائن انڈسٹری کے خلاف ایک بڑا اور جامع ایکشن لیا ہے۔
امریکی وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین پابندیوں کے نتیجے میں 27 ایرانی ایئرلائنز اور 9 سروس پرووائیڈرز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان اداروں پر پاسداران انقلاب کی مدد کرنے والی نجی کمپنی ماہان ایئر کو سہولیات فراہم کرنے کا الزام ہے۔
امریکی حکام کے مطابق ماہان ایئر کو خدمات فراہم کرنے والے یہ سیلز ایجنٹس اور سروس پرووائیڈرز ترکیہ، ملائیشیا، قازقستان اور متحدہ عرب امارات میں مقیم ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : عباس عراقچی کا او آئی سی سے ایران پر امریکی جارحیت کا جواب دینے کا مطالبہ
امریکی وزارت خزانہ کے ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ ان ممالک اور اداروں کو پہلے ہی متنبہ کیا جا چکا تھا اور اب امریکہ ان تمام اپریٹرز کو مغربی مالیاتی نظام سے مکمل طور پر کاٹنے کے لیے مستقیم اقدامات کر رہا ہے۔
اس کے ساتھ ہی امریکی وزارت خزانہ نے ایوی ایشن سے متعلق تمام جاری کردہ لائسنس فوری طور پر منسوخ کر دیئے ہیں۔ ان میں ایرانی فضائی حدود کے استعمال کی ادائیگیوں کی اجازت اور غیر امریکی ایئرلائنز کو امریکی تصدیق شدہ طیارے ایران لے جانے کی تمام تر اجازتیں شامل ہیں۔
یہاں تک کہ ایمرجنسی ایوی ایشن اور سیفٹی کے لیے جاری کیا گیا جنرل لائسنس بھی واپس لے لیا گیا ہے اور اب ایسے معاملات کا جائزہ الگ الگ کیس کی بنیاد پر لیا جائے گا۔
امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ ان اقدامات کا بنیادی مقصد ایرانی معیشت کے ایوی ایشن سیکٹر کو مارکیٹ سے مکمل طور پر باہر نکالنا ہے۔ امریکہ تہران کی مالی شریانوں کو کاٹ کر جاری جنگی کارروائیوں کی فنڈنگ صلاحیت کو ختم کرنا چاہتا ہے۔
امریکی وزارت خزانہ کے سیکریٹری اسکاٹ بیسنٹ جیسے اعلیٰ حکام نے ان معاشی پابندیوں کو ایران میں حکومت کی تبدیلی کے امکانات سے بھی جوڑا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












