ایران کی جوابی کارروائی، اردن میں امریکی ازرق ایئر بیس پر درجنوں بیلسٹک میزائلوں سے حملہ

پاسداران انقلاب نے اپنے تیل بردار جہازوں پر امریکی کارروائیوں کے جواب میں اردن میں واقع امریکی ازرق ایئر بیس اور امریکی جنگی جہازوں پر بیلسٹک میزائلوں سے شدید حملہ کر دیا۔
پاسداران انقلاب کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، یہ کارروائی آئل ٹینکرز پر امریکی جارحیت کے جواب میں کی گئی جس میں ٹھوس اور مائع ایندھن سے چلنے والے سنگین بیلسٹک میزائل استعمال کیے گئے۔
اس حملے میں امریکہ کے ازرق ایئر بیس، موفق سالتی ایئر بیس اور پرنس حسن ایئر بیس پر قائم ہینگرز، دیکھ بھال کی سہولیات اور ایف 35، ایف 16 اور ایف 15 جنگی طیاروں کی پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا گیا۔ پاسداران انقلاب کا دعویٰ ہے کہ حملے میں امریکی افواج کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کلسٹر وار ہیڈز سے لیس ایرانی میزائل بغیر کسی رکاوٹ کے امریکی اڈوں پر گر رہے ہیں جبکہ امریکی پیتریئٹ ایئر ڈیفنس سسٹم ان کو روکنے میں ناکام رہا۔
یہ بھی پڑھیں : امریکہ کا خارگ جزیرے کے قریب 5 ایرانی تیل بردار جہازوں پر حملہ
بعد ازاں پاسداران انقلاب نے امریکی بحریہ کے دو جنگی تباہ کن جہازوں ڈی ڈی جی 119 اور ڈی ڈی جی 53 کو بھی گائیڈڈ بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنا کر شدید نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے۔
اس کے ساتھ ہی پاسداران انقلاب کی نیوی کمانڈ نے کویت اور بحرین کی بندرگاہوں اور لنگر انداز ہونے والی جگہوں کے قریب موجود تمام آئل ٹینکرز کے عملے کو فوری طور پر جہاز خالی کرنے کی سخت تنبیہ جاری کی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی جارحیت کی وجہ سے ان ٹینکرز کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز میں 2 امریکی بحری جہازوں اور 8 تیل بردار ٹینکرز کو ممنوعہ زون کی خلاف ورزی پر نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔
دوسری جانب، اردنی فوج کے ترجمان نے تہران، اصفہان، تبریز اور خرم آباد سے داغے گئے میزائلوں کے حوالے سے بتایا کہ اردن کی جانب آنے والے 20 ایرانی میزائلوں میں سے 18 کو ہوا میں ہی تباہ کر دیا گیا جبکہ باقی 2 کھلے علاقے میں گرے جس سے کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












