ہفتہ، 12-ستمبر،2026
ہفتہ 1448/04/01هـ (12-09-2026م)

الشباب، طالبان اور القاعدہ کے گٹھ جوڑ پر اہم انکشافات، افغانستان عالمی جہادی نیٹ ورکس کا مرکز بننے لگا

12 ستمبر, 2026 13:47

9/11 کے حملوں کو 25 سال مکمل ہونے پر صومالی محقق گولید احمد کے تفصیلی مقالے میں عالمی جہادی تنظیموں کے بدلتے ہوئے ڈھانچے اور باہمی روابط پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ ڈھائی دہائیوں کے دوران دہشتگردی کا خطرہ اپنی نوعیت تبدیل کرچکا ہے اور القاعدہ اب محض ایک غیر ریاستی دہشتگرد تنظیم نہیں رہی بلکہ کمزور یا شدت پسندوں کے زیر اثر ممالک میں ریاستی نظام کے اندر جگہ بنانے والے نیٹ ورک کی شکل اختیار کر رہی ہے۔

رپورٹ میں افغانستان، یمن، صومالیہ اور لیبیا کو ایسے نمایاں خطوں کے طور پر پیش کیا گیا ہے جہاں جہادی تنظیمیں ریاستی یا نیم ریاستی ڈھانچوں میں اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

گولید احمد کے مطابق افغانستان عالمی جہادی نیٹ ورکس کے لیے اہم مرکز بنتا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کو صرف دہشتگرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہ سمجھنا کافی نہیں، کیونکہ ریاستی ماحول اور علاقائی روابط کے باعث یہ مختلف جہادی گروہوں کے درمیان رابطے کا اہم مقام بن چکا ہے۔

رپورٹ کے مطابق افغانستان میں القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان، الشباب، داعش اور دیگر شدت پسند نیٹ ورکس کے درمیان سفری، تربیتی، مالی اور سہولت کاری کے روابط موجود ہیں۔ افغان سرزمین طالبان، القاعدہ، ٹی ٹی پی اور دیگر غیر ملکی جنگجوؤں کے درمیان رابطوں اور باہمی تجربات و تربیت کے لیے بھی استعمال ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔

مقالے میں کہا گیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں دہشتگرد تنظیموں کو محض محفوظ پناہ گاہیں نہیں ملتیں بلکہ بعض حالات میں ریاستی طرز کی حکمرانی، وسائل اور طویل المدتی بقا کے مواقع بھی دستیاب ہوجاتے ہیں۔ اس بدلتے ہوئے ڈھانچے کو 9/11 کے بعد دہشتگردی کے خلاف عالمی حکمت عملی کے لیے ایک نیا چیلنج قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ہتھیار، لاجسٹکس، مالی معاونت، اسمگلنگ اور مشترکہ دشمن مختلف جہادی نیٹ ورکس کے درمیان تعاون کی بنیاد بن رہے ہیں۔ القاعدہ افغانستان کو صومالیہ، یمن، شام اور دیگر خطوں میں موجود شدت پسند نیٹ ورکس کے درمیان رابطے کے ذریعے کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔

مقالے میں الشباب اور افغانستان کے درمیان بڑھتے روابط کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق القاعدہ الشباب کو صومالیہ میں طالبان طرز کی حکومت قائم کرنے کے لیے حوصلہ دے رہی ہے، جبکہ افغانستان میں الشباب کی موجودگی نظریاتی وابستگی سے آگے بڑھ کر عملی روابط، عسکری تعاون اور تنظیمی تربیت تک پہنچ چکی ہے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 2022 سے 2026 کے دوران الشباب کی قیادت اور سینئر ارکان نے افغانستان کے متعدد دورے کیے، جن کے مقاصد میں طبی علاج، عسکری مشاورت اور تنظیمی روابط شامل تھے۔ ایک وفد کے یمن کے راستے افغانستان پہنچنے اور القاعدہ کے تربیتی کیمپوں تک رسائی حاصل کرنے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

گولید احمد کے مطابق الشباب کے امیر احمد دیریے سمیت سینئر کمانڈرز کے افغانستان میں طالبان اور القاعدہ سے منسلک عناصر سے روابط کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ الشباب کے ارکان نے ٹی ٹی پی کے ساتھ ملاقاتیں کیں اور پاکستان کے خلاف اس کی طویل شورش اور گوریلا حکمت عملی کا جائزہ لیا۔

مقالے میں خبردار کیا گیا ہے کہ جہادی تنظیموں کے ریاستی یا نیم ریاستی ڈھانچوں میں بڑھتے ہوئے انضمام کو نظرانداز کرنا ایک سنگین تزویراتی غلطی ثابت ہوسکتا ہے، کیونکہ ایسے روابط عالمی سطح پر دہشتگرد نیٹ ورکس کی طویل المدتی بقا اور باہمی تعاون کو مزید مضبوط کرسکتے ہیں۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔