سر درد کو معمولی نہ سمجھیں!!! مائگرین بڑھانے والی 5 عام عادتیں سامنے آگئیں

مائگرین کو عام سر درد سمجھنا درست نہیں۔ اس کیفیت میں بعض افراد کو سر کے ایک حصے میں شدید اور دھڑکتا ہوا درد محسوس ہوتا ہے۔ بعض اوقات درد کے ساتھ متلی، چکر اور روشنی یا تیز آواز سے حساسیت بھی ہوسکتی ہے۔ کچھ لوگوں کو آنکھوں کے سامنے چمکتی ہوئی روشنی یا دیگر بصری علامات بھی محسوس ہوتی ہیں۔
مائگرین کی علامات اور اس کے محرکات ہر شخص میں مختلف ہوسکتے ہیں۔ تاہم روزمرہ زندگی کی کچھ عادات بعض افراد میں مائگرین کے حملے کو متحرک یا درد کو زیادہ شدید کرسکتی ہیں۔ ان عادات پر توجہ دے کر کچھ لوگوں کو سر درد کی شدت یا تکرار کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
کھانا چھوڑ دینا
مصروف معمول کی وجہ سے بعض افراد کئی گھنٹے تک کھانا نہیں کھاتے۔ کچھ لوگ کھانے کے اوقات بھی بار بار تبدیل کرتے رہتے ہیں۔ خالی پیٹ رہنا بعض افراد میں مائگرین کا محرک بن سکتا ہے۔
اگر آپ نے محسوس کیا ہے کہ کھانا چھوڑنے کے بعد سر درد شروع ہوجاتا ہے تو اپنے کھانے کے معمول پر توجہ دیں۔ کوشش کریں کہ کھانے میں بہت زیادہ وقفہ نہ ہو۔ متوازن غذا کو روزمرہ معمول کا حصہ بنانا بھی اہم ہے۔
نیند کا معمول خراب ہونا
نیند کی کمی بھی مائگرین کے مسائل میں کردار ادا کرسکتی ہے۔ رات دیر تک جاگنا، مسلسل کم نیند لینا یا سونے اور جاگنے کے اوقات میں بار بار تبدیلی بعض افراد میں سر درد کو بڑھا سکتی ہے۔
اس لیے روزانہ مناسب نیند لینے کی کوشش کریں۔ سونے اور جاگنے کا وقت بھی حتیٰ کہ چھٹی کے دنوں میں بہت زیادہ تبدیل نہ کریں۔ اگر مسلسل تھکن رہتی ہے تو اسے معمول سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
موبائل اور لیپ ٹاپ کا زیادہ استعمال
موبائل فون، کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ آج روزمرہ زندگی کا حصہ ہیں۔ کئی گھنٹے مسلسل اسکرین دیکھنے سے آنکھوں میں تھکن اور سر درد ہوسکتا ہے۔ مائگرین والے بعض افراد میں اسکرین کی تیز روشنی یا چمک بھی درد کا محرک بن سکتی ہے۔
اگر اسکرین استعمال کرتے ہوئے سر درد محسوس ہو تو کچھ دیر کا وقفہ لینا بہتر ہے۔ اسکرین کی روشنی کو ماحول کے مطابق رکھیں۔ آنکھوں کو بھی وقفے وقفے سے آرام دیں۔ مسلسل کئی گھنٹے بغیر وقفے کے اسکرین دیکھنے سے گریز کریں۔
ذہنی دباؤ کو نظر انداز کرنا
کام، گھریلو معاملات اور دیگر پریشانیاں ذہنی دباؤ کا سبب بن سکتی ہیں۔ بعض افراد میں یہ دباؤ مائگرین کے حملے کو متحرک کرسکتا ہے۔ مسلسل ذہنی تھکن بھی سر درد کی کیفیت کو مزید مشکل بنا سکتی ہے۔
روزمرہ معمول میں آرام کے لیے کچھ وقت نکالنا مددگار ہوسکتا ہے۔ ہلکی جسمانی سرگرمی، مناسب نیند اور پرسکون ماحول بھی فائدہ دے سکتے ہیں۔ اگر ذہنی دباؤ مسلسل برقرار رہے تو اس کی وجہ پر توجہ دینا ضروری ہے۔
پانی کم پینا
پانی کی کمی بھی سر درد کا سبب بن سکتی ہے۔ بعض افراد میں جسم میں پانی کی کمی مائگرین کو متحرک کرسکتی ہے۔ گرمی، ورزش یا زیادہ پسینہ آنے کے دوران جسم کو زیادہ پانی کی ضرورت ہوسکتی ہے۔
اس لیے دن بھر مناسب مقدار میں پانی پیتے رہیں۔ پانی کی ضرورت ہر شخص کے لیے یکساں نہیں ہوتی۔ موسم، جسمانی سرگرمی اور صحت کی صورتحال کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔
مائگرین کے محرکات کا ریکارڈ رکھیں
مائگرین بار بار ہونے کی صورت میں اس کے ممکنہ محرکات کا ریکارڈ رکھنا مفید ہوسکتا ہے۔ یہ نوٹ کریں کہ درد کس وقت شروع ہوا۔ اس سے پہلے کیا کھایا یا پیا تھا۔ کتنی نیند لی تھی اور پانی کتنا پیا تھا۔ اس کے ساتھ یہ بھی لکھیں کہ اس وقت ذہنی دباؤ کتنا تھا۔
کچھ عرصے تک ایسا ریکارڈ رکھنے سے یہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ کن حالات میں سر درد زیادہ ہوتا ہے۔ اس معلومات کو ڈاکٹر کے ساتھ شیئر کرنے سے تشخیص اور علاج کے بارے میں بات چیت میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
کب ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے؟
اگر مائگرین بار بار ہو رہا ہو یا سر درد معمول سے زیادہ شدید ہوجائے تو ڈاکٹر سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔ خاص طور پر اس وقت طبی مدد لینا ضروری ہے جب سر درد کے ساتھ اچانک نظر میں خرابی، بولنے میں مشکل، جسم کے کسی حصے میں کمزوری یا بے ہوشی جیسی علامات ظاہر ہوں۔
Catch all the صحت News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












