پیر، 21-ستمبر،2026
پیر 1448/04/10هـ (21-09-2026م)

عمر بڑھنے کے ساتھ وقت تیز کیوں محسوس ہوتا ہے؟ تحقیق میں ممکنہ وجوہات

21 ستمبر, 2026 11:09

بچپن کے دن طویل اور بڑھاپے کے سال مختصر کیوں محسوس ہوتے ہیں؟ ماہرین کے مطابق وقت حقیقت میں اپنی رفتار تبدیل نہیں کرتا، تاہم عمر بڑھنے کے ساتھ انسانی دماغ کے وقت کو محسوس کرنے کا انداز بدل سکتا ہے۔

بہت سے افراد یہ تجربہ کرتے ہیں کہ عمر بڑھنے کے ساتھ دن، ہفتے، مہینے اور سال تیزی سے گزرنے لگتے ہیں۔ سائنس دانوں کے مطابق اس احساس کو سمجھنے کے لیے وقت کے حقیقی گزرنے اور انسانی ذہن میں وقت کے ادراک کے درمیان فرق کو دیکھنا ضروری ہے۔

2019 میں Cambridge University Press میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں گھڑی کے وقت اور ذہنی طور پر محسوس کیے جانے والے وقت کے درمیان فرق پر بحث کی گئی تھی۔

ایک ممکنہ وضاحت تناسب کے نظریے سے منسلک ہے۔ مثال کے طور پر 10 سال کی عمر میں ایک سال کسی بچے کی زندگی کا تقریباً 10 فیصد ہوتا ہے، جبکہ 50 سال کی عمر میں ایک سال پوری زندگی کے مقابلے میں نسبتاً بہت چھوٹا حصہ بن جاتا ہے۔ اس نظریے کے مطابق عمر بڑھنے کے ساتھ ہر نیا سال مجموعی زندگی کے مقابلے میں کم اہم محسوس ہوسکتا ہے۔

ماہرین ایک اور وجہ زندگی میں نئے تجربات کی کمی کو قرار دیتے ہیں۔ بچپن میں نئی جگہوں، لوگوں، سرگرمیوں اور تجربات کی تعداد زیادہ ہوتی ہے، جس کے باعث دماغ نسبتاً زیادہ منفرد یادیں محفوظ کرتا ہے۔

اس کے مقابلے میں عمر بڑھنے کے ساتھ زندگی زیادہ معمول کا شکار ہوسکتی ہے۔ جب دن اور ہفتے ایک جیسے معمولات میں گزرتے ہیں تو ماضی کو یاد کرتے وقت کئی ادوار ایک دوسرے سے ملتے جلتے محسوس ہوسکتے ہیں، جس سے وقت مختصر دکھائی دیتا ہے۔

توجہ بھی وقت کے احساس پر اثرانداز ہوسکتی ہے۔ جب انسان کسی کام میں پوری طرح مصروف ہو تو اس کی توجہ گھڑی دیکھنے کے بجائے سرگرمی پر مرکوز رہتی ہے، جس کے باعث وقت کے گزرنے کا احساس کم ہوسکتا ہے۔

جذبات بھی اس عمل میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔ خوف، خوشی، حیرت اور جوش جیسے غیر معمولی تجربات زیادہ نمایاں یادیں چھوڑتے ہیں، جبکہ یکساں معمولات، تھکن اور بوریت سے گزرنے والے دن ایک دوسرے سے ملتے جلتے محسوس ہوسکتے ہیں۔

ڈوپامین کو بھی وقت کے ادراک سے منسلک ایک ممکنہ عامل سمجھا جاتا ہے۔ عمر بڑھنے کے ساتھ دماغی عمل اور بعض کیمیائی مادوں میں تبدیلیاں وقت کے احساس کو متاثر کرسکتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق وقت کو حقیقی معنوں میں سست نہیں کیا جاسکتا، تاہم نئی سرگرمیوں، مختلف تجربات اور تخلیقی مشاغل کو زندگی کا حصہ بنانے سے یادوں میں تنوع پیدا ہوسکتا ہے اور وقت کے احساس میں تبدیلی آسکتی ہے۔

Cambridge University Press میں شائع تحقیق کے مصنف اور مکینیکل انجینئرنگ کے پروفیسر ایڈرین بیجان نے بھی معمول سے ہٹ کر نئی چیزیں آزمانے اور نئے تجربات حاصل کرنے کو اہم قرار دیا تھا۔ ان کے مطابق نئے خیالات اور تخلیقی سرگرمیاں انسان کے وقت کے ادراک کو زیادہ بھرپور بنا سکتی ہیں۔

Catch all the صحت News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔