انتہا پسند اسرائیلی وزیر کا فلسطینیوں قیدیوں کو قتل اور شہریوں کو غزہ سے بے دخل کرنے کا اعلان

اسرائیلی انتہا پسند وزیر نے فلسطینی قیدی کو پھانسی دینے کی دھمکی دیتے ہوئے انتخابات کے بعد وزارت دفاع ملنے پر قیدیوں کو موت کی سزا دینے اور فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اسرائیلی انتہا پسند وزیر قومی سلامتی ایتامار بن گویر نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو جاری کی ہے، جس میں وہ ایک سیل کے اندر فلسطینی قیدی حسن سلامہ کے سامنے کھڑے ہو کر انہیں دھمکی دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ انہیں پھانسی دینا چاہتے ہیں۔
اس ویڈیو کے ساتھ جاری کردہ اپنے ایک بیان میں بن گویر نے یہ عزم ظاہر کیا ہے کہ اگر انہیں آنے والے اسرائیلی انتخابات کے بعد وزارت دفاع کا قلمدان سونپا گیا تو وہ یہ یقینی بنائیں گے کہ حسن سلامہ جیسے قیدیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی پالیسی کو بھی عملی جامہ پہنائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں : اسرائیل مسجد اقصی پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، خالد مشعل
واضح رہے کہ حسن سلامہ کو اسرائیل نے 1996 سے قید کر رکھا ہے اور 1990 کی دہائی کے بم دھماکوں کے الزامات کے تحت انہیں متعدد بار عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
ایتامار بن گویر کی جانب سے فلسطینی قیدی حسن سلامہ کو پھانسی دینے کی دھمکی کے بعد حماس اور قیدیوں کے میڈیا آفس نے اس کی شدید مذمت کی ہے۔
میڈیا آفس کا کہنا ہے کہ کیمروں کے سامنے اس قسم کی دھمکیاں دینا یہ ظاہر کرتا ہے کہ قابض حکومت قیدیوں کے ساتھ کیسا مجرمانہ سلوک روا رکھے ہوئے ہے اور یہ براہ راست تشدد اور قتل پر اکسانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس قسم کے ہتھکنڈوں سے قیدیوں اور ان کے خاندانوں کے عزم کو کمزور نہیں کیا جا سکتا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












