آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق ایرانی تجویز ایک سیاسی چال ہے، امریکی سفیر

امریکی سفیر نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے پیش کی گئی ایرانی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے اسے ایک چال قرار دیا ہے۔
اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے ایک انٹرویو کے دوران ایران کی جانب سے پیش کی جانے والی اس تجویز کو مسترد کر دیا، جس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی بات کی گئی تھی۔
انہوں نے اس تجویز کو ایک ایسی چال قرار دیا، جس کا مقصد ایسی شرائط رکھنا تھا، جنہیں واشنگٹن کے لیے قبول کرنا ممکن نہ ہو۔ ایران نے اپنی تجویز میں منجمد اثاثوں کی بازیابی، پابندیوں کے خاتمے اور بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں : ایران نے آبنائے ہرمز میں ایک اور امریکی زیر آب ڈرون قبضے میں لے لیا
امریکی سفیر نے کہا کہ یہ پابندیاں صرف امریکہ کی طرف سے نہیں ہیں بلکہ یہ عالمی پابندیاں ہیں، جن کی حمایت عالمی برادری بھی کرتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے ماضی میں قراردادیں پاس کی جا چکی ہیں، جن میں ایران کے جوہری پروگرام پر تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔
مائیک والٹز کا یہ بھی کہنا تھا کہ عالمی جوہری توانائی ایجنسی نے بھی تہران کی جانب سے معائنہ کاروں کو اجازت نہ دینے اور قواعد کی خلاف ورزیوں پر سیکورٹی کونسل کو رپورٹ کیا تھا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












