منگل، 29-ستمبر،2026
منگل 1448/04/18هـ (29-09-2026م)

مقبوضہ کشمیر اسمبلی میں بی جے پی کی مخالفت کے باوجود ریاستی حیثیت کی بحالی کی قرارداد منظور

29 ستمبر, 2026 14:31

مقبوضہ کشمیر اسمبلی میں بی جے پی کی شدید مخالفت کے باوجود جموں و کشمیر کی مکمل ریاستی حیثیت کی بحالی کی قرارداد منظور کر لی گئی۔

مقبوضہ کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں نئی دہلی سے جموں و کشمیر کی مکمل ریاستی حیثیت فوری بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک اہم قرارداد منظور کی گئی ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق مکمل ریاستی حیثیت کی یہ قرارداد عمر عبداللہ کی طرف سے پیش کی گئی تھی، جسے نیشنل کانفرنس، کانگریس، پی ڈی پی، پیپلز کانفرنس، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسی، عام آدمی پارٹی اور دیگر اراکین کی طرف سے مکمل حمایت حاصل ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں : آزاد کشمیر کے فسادی جھتے کے گرفتار کارندے نے پولیس اہلکاروں کو شہید کرنے کا اعتراف کرلیا

مقبوضہ کشمیر کے کسی بھی رکن نے اس قرارداد کے خلاف ووٹ نہیں دیا، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے 29 اراکین ووٹنگ سے قبل شرمندگی کے باعث واہ آؤٹ کر گئے۔

بی جے پی اراکین کی طرف سے شدید نعرے بازی اور قرارداد کی نقول پھاڑنے کی کوشش کے بعد اسمبلی کے اندر کشمیر کے حق میں بھرپور نعرے لگائے گئے۔

اس دوران چیف سیکریٹری اور لاء سیکریٹری کی جانب سے اسمبلی کی کارروائی روکنے کی کوشش بھی مکمل طور پر ناکام بنا دی گئی اور بھارتی بیوروکریسی کا خط سرعام مسترد کر دیا گیا۔

اسمبلی اسپیکر نے نئی دہلی سے موصول ہونے والے اس خط کا معاملہ ایوان میں اٹھایا اور مبینہ سرکاری دباؤ کے باوجود اراکین نے مل کر اس سازش کو ناکام بنا دیا۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔