امریکا میں مصنوعی ذہانت کو بے قابو ہونے سے روکنے کیلئے چھ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کا معاہدہ

امریکی صدر اور دنیا بھر کی چھ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہان نے مصنوعی ذہانت کے نظام کو بے قابو ہونے اور خطرناک رخ اختیار کرنے سے روکنے کے لیے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔
امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں واقع وائٹ ہاؤس میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی تقریب کے دوران امریکا کی چھ بڑی مصنوعی ذہانت بنانے والی کمپنیوں کے چیفس اور سربراہان نے ایک نئے اور کڑے ضابطہ کار پر دستخط کیے ہیں۔
اس معاہدے کو وائٹ ہاؤس اکارڈ آن سپر انٹیلی جنس کا نام دیا گیا ہے، جس کا بنیادی اور اولین مقصد اس بات کی مکمل ضمانت دینا ہے کہ جدید ترین ٹیکنالوجی کبھی بھی اپنے دائرہ کار سے باہر ہو کر انسانیت کے لیے خطرہ نہ بنے۔
اس اہم دستاویز پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے علاوہ گوگل کے سندر پچائی، اینتھراپک کے ڈاریو اموڈی، میٹا کے مارک زکربرگ، اوپن اے آئی کے گریگ بروکمین، ایکس اے آئی کے ایلون مسک اور اینڈیا کے جینسن ہانگ نے دستخط کیے۔
یہ بھی پڑھیں : بل گیٹس کا مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی پر شدید تشویش کا اظہار، دنیا کے لیئے خطرہ قرار دے دیا
معاہدے کی شروط کے مطابق تمام ترقی یافتہ ٹیکنالوجی کمپنیاں اس بات کی پابند ہوں گی کہ وہ اپنے اندرونی سسٹمز میں ایسے مضبوط حفاظتی حصار اور کنٹرول قائم کریں گی تاکہ ٹیکنالوجی بالکل اسی طرح کام کرے جیسی کہ اس کی اصل توقع کی گئی تھی۔
کمپنیاں اس امر کو بھی یقینی بنائیں گی کہ ان کے تیار کردہ ماڈل کسی بھی بیرونی یا تکنیکی سسٹم میں غیر قانونی طور پر ہیکنگ یا مداخلت نہ کر سکیں۔
اس کے علاوہ، تمام کمپنیاں بیرونی اور مکمل طور پر آزادانہ آڈٹ کرانے اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کی ایک آزاد کمیٹی تشکیل دینے پر بھی متفق ہو گئی ہیں۔
اسی اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ نے ایک اہم صدارتی حکم نامے پر بھی دستخط کیے، جس کے تحت وفاقی حکومت کے اداروں کو یہ ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ آئندہ سے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی بجائے سپر انٹیلی جنس یا ایس آئی کی اصطلاح استعمال کریں، تاکہ اس ٹیکنالوجی کی حقیقی صلاحیتوں اور انسانی تخلیقی صلاحیتوں کو بہتر طور پر اجاگر کیا جا سکے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












