فرانس میں تعلیمی اصلاحات کیلئے لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے، پولیس سے جھڑپیں، کئی بچے زخمی

تعلیمی اصلاحات کے مطالبات کے لیے جاری مظاہروں کے پیش نظر فرانس کے وزیر اعظم نے ملک بھر میں ہائی اسکولوں کی کلاسیں ہفتے کے آخر تک معطل کر دی ہیں۔
تعلیمی نظام میں اصلاحات کے مطالبات کے لیے فرانس کے متعدد شہروں میں لاکھوں افراد نے تعلیمی نظام میں بہتری لانے، غیر حاضر اسکول اساتذہ کو تبدیل کرنے، دوپہر کے کھانے کے وقفے کو طویل کرنے اور اسکول کے اوقات کار میں تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہوئے ریلیاں نکالیں۔
حکام کے مطابق ملک بھر میں مظاہرین کی تعداد تقریباً 68 ہزار تھی، لیکن منتظمین کا تخمینہ تھا کہ طلب اور کارکنوں کی تعداد تقریبا پانچ لاکھ کے قریب تھی۔
ہائی اسکول اسٹوڈنٹس یونین نے کہا کہ تقریباً 2 ہزار اسکولوں کا گھیراؤ یا انہیں بند رکھا گیا۔ دارالحکومت پیرس میں کسانوں کی یونین، توانائی کے کارکنوں اور اساتذہ کی یونینوں سمیت مختلف گروپوں کے افراد نے بھی مظاہرے میں شرکت کی ہے۔
والدین اور اساتذہ نے کہا کہ وہ نہ صرف اپنے بچوں کی حمایت کے لیے بلکہ ان کی حفاظت کے لیے یہاں موجود ہیں کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ کوئی شرپسند عناصر احتجاج میں گھس سکتے ہیں۔
مارسیلے، نانت اور لیون کے شہروں میں مظاہرین نے سڑکوں پر بینرز اٹھا کر نعرے لگائے۔ اسٹراسبرگ، لیون اور رینس میں احتجاج پرتشدد ہو گیا، جہاں پولیس نے آنسو گیس فائر کی اور مظاہرین نے سڑکوں پر آگ لگا دی۔
یہ بھی پڑھیں : فرانس کا سعودی عرب کی تیل تنصیبات کی حفاظت کے لیے فوج بھیجنے کا اعلان
وزیر اعظم سباستین لیکورنو نے اسکولوں کی بندش کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اسکول کی عمارتوں کو جلانے سے اسکول کی حالت بہتر نہیں ہوتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس اقدام کا مقصد ہیڈ ماسٹروں، اساتذہ اور طلبہ کو اسکول کے حالات سے متعلق خدشات کو دور کرنے کے لیے بااختیار بنانا ہے۔
انہوں نے وزراء کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ اکتوبر کے آخر تک طلبہ کے مطالبات کو حل کریں اور کہا کہ حکومت پرانے کیمپس کی مرمت کا جائزہ لے گی۔
فرانس کی وزارت داخلہ نے بتایا کہ احتجاج کے آغاز سے لے کر اب تک 6 ہزار افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جن میں اکثریت 18 سال سے کم عمر کے نوجوانوں کی ہے۔
وزارت انصاف نے اعلان کیا کہ اٹھارہ سو سے زائد افراد پر مقدمہ چلایا جائے گا، جن میں ایک ہزار 483 نابالغ شامل ہیں۔ مظاہروں کے دوران کم از کم 215 کم عمر افراد اور 715 پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
شمالی شہر لینس میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے دوران ایک 15 سالہ لڑکے کا ہاتھ کٹ گیا۔ دریں اثنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس میں ہونے والے ان مظاہروں میں کودتے ہوئے بغیر کسی ثبوت کے بے لگام ہجرت اور مسلمانوں کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ فرانس میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ بے قابو بڑے پیمانے پر ہجرت کے سوا کچھ نہیں ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












