بدھ، 24-جون،2026
بدھ 1448/01/09هـ (24-06-2026م)

آئندہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین اصل درآمدی پریمیم کی بنیاد پر کیا جائے گا، پیٹرولیم ڈویژن

24 جون, 2026 12:50

پیٹرولیم ڈویژن کا کہنا ہے کہ آئندہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین اصل درآمدی پریمیم کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین اور آئل انڈسٹری کو درپیش مالی مسائل پر حکومت اور آئل کمپنیوں کے درمیان ایک اہم ہنگامی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک اور سیکریٹری پیٹرولیم حامد یعقوب شیخ نے کی۔ اس میں ملک کی بڑی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ریفائنریوں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران پیٹرولیم ڈویژن نے آئل کمپنیوں کو یقین دہانی کروائی کہ آئندہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اصل درآمدی پریمیم کی بنیاد پر طے کی جائیں گی۔ فی الحال ہفتہ وار قیمتوں کے نظام میں مزید کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔

حکام کے مطابق آئندہ پیٹرول کی قیمت پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے تازہ درآمدی کارگو پر لاگو ہونے والے 15.85 ڈالر فی بیرل پریمیم کے مطابق مقرر کی جائے گی۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت بھی پی ایس او کے کویت سے درآمد کیے گئے ڈیزل کے پریمیم کی بنیاد پر برقرار رکھی جائے گی، جو اس وقت تقریباً 5 سے 6 ڈالر فی بیرل ہے۔

اجلاس میں آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل کے چیئرمین آصف اقبال نے انڈسٹری کے تحفظات حکومت کے سامنے رکھے۔ انہوں نے کہا کہ صرف تین ماہ میں ڈیزل کی قیمتوں کے فارمولے میں سات مرتبہ اور پیٹرول کے فارمولے میں چار مرتبہ تبدیلی کی گئی۔ اس مسلسل رد و بدل سے کمپنیوں کی کاروباری منصوبہ بندی متاثر ہوئی ہے اور مالی نقصان میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ قیمتوں میں اچانک تبدیلی کے باعث کمپنیوں کا ایک ہی دن میں پورے سال کا منافع ختم ہو گیا۔ ایسی غیر یقینی صورتحال میں بیرونی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری سے گریز کریں گے۔

اجلاس میں ریفائنری نمائندوں نے بھی اپنے مسائل سامنے رکھے۔ سائینرجیکو پیٹرولیم کے چیف ایگزیکٹو امیر عباسی نے کہا کہ اسمگل شدہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی بڑی مقدار مقامی مارکیٹ میں فروخت ہو رہی ہے۔ اس سے ملکی ریفائنریاں شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ انہوں نے حکومت سے اسمگلنگ روکنے اور قیمتوں کے نظام کو مرحلہ وار آزاد کرنے کا مطالبہ کیا۔

ریفائنریوں نے اپ گریڈیشن کے لیے مختص 2.5 فیصد ڈیمڈ ڈیوٹی واپس لینے کی کوشش پر بھی اعتراض کیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ اپ گریڈیشن کے معاہدوں پر ابھی دستخط بھی نہیں ہوئے، اس لیے یہ فیصلہ صنعت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

وافی انرجی کے چیف ایگزیکٹو زبیر شیخ نے اجلاس میں بتایا کہ غیر ملکی سرمایہ کار حکومتی پالیسیوں میں بار بار تبدیلی پر شدید تشویش رکھتے ہیں۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو کئی سرمایہ کار اپنا سرمایہ پاکستان سے منتقل کر سکتے ہیں۔

بعض کمپنیوں نے اوگرا پر 66 ارب روپے سے زائد کے پرائس ڈیفرینشل کلیمز روکنے کا الزام بھی عائد کیا۔ اس وجہ سے کمپنیوں کے مالی وسائل متاثر ہوئے ہیں۔ دوسری طرف بینکوں کی جانب سے اضافی فارن ایکسچینج چارجز وصول کرنے سے بھی انڈسٹری پر مالی دباؤ بڑھ گیا ہے۔

وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اجلاس میں کہا کہ حکومت فوری طور پر ہفتہ وار قیمتوں کا نظام ختم نہیں کرے گی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس معاملے کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ کمیٹی آئل انڈسٹری کی تجاویز کا بھی جائزہ لے گی۔

وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ مکمل ڈی ریگولیشن ایک ہی مرحلے میں ممکن نہیں۔ حکومت بتدریج اصلاحات کرے گی۔ مستقبل میں اگر ضرورت پڑی تو روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین کا نظام بھی متعارف کروایا جا سکتا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان میں پہلے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ہر 15 روز بعد تبدیل کی جاتی تھیں۔ بعد ازاں حکومت نے عالمی مارکیٹ کے مطابق فوری ردعمل کے لیے ہفتہ وار نظام متعارف کروایا۔ تاہم آئل کمپنیوں کا کہنا ہے کہ اس نئی پالیسی سے انوینٹری مینجمنٹ، مالی منصوبہ بندی اور کاروباری استحکام شدید متاثر ہوا ہے۔

Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔