بدھ، 29-جولائی،2026
بدھ 1448/02/15هـ (29-07-2026م)

آئل مارکیٹنگ کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد، حکومت نے یومیہ پیٹرولیم قیمتوں کی پالیسی جاری کر دی

19 جولائی, 2026 20:47

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے نظام میں وسیع پیمانے پر اصلاحات کے لیے پالیسی گائیڈ لائنز جاری کر دی ہیں جن کے تحت موجودہ ہفتہ وار قیمتوں کے تعین کے نظام کی جگہ یومیہ مارکیٹ پر مبنی نظام متعارف کرانے، ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) کی درآمد صرف پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) تک محدود کرنے اور درآمدی یا ریفائنریوں سے مصنوعات کی لازمی خریداری (ریفائنری اپ لفٹ) کی شرائط پوری نہ کرنے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) پر سخت پابندیاں عائد کردی گئیں ہیں

آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) آرڈیننس 2002 کے سیکشن 21 کے تحت جاری کردہ مجوزہ پالیسی گائیڈ لائنز کے مطابق اوگرا کو یہ اختیار دیدیا گیا ہے کہ وہ وفاقی حکومت یا وزیراعظم کی پیشگی منظوری کے بغیر ہر ورکنگ ڈے پیٹرولیم مصنوعات کی ایکس ڈپو قیمتوں کا تعین اور اعلان کرے۔ جمعہ کو جاری کی جانے والی قیمتیں ہفتہ اور اتوار کو بھی نافذ العمل رہیں گی۔
پالیسی کے مطابق مالی سال 2026-27 کے دوران ہائی اسپیڈ ڈیزل کی درآمد صرف پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کو کرنے کی اجازت ہوگی، جبکہ دیگر نجی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں پر ڈیزل درآمد کرنے پر پابندی ہوگی۔ حکومتی حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد ملک میں ڈیزل کی مسلسل دستیابی یقینی بنانا اور درآمدی نظام کو زیادہ مؤثر انداز میں منظم کرنا ہے۔
ایک اور اہم ریگولیٹری اقدام کے تحت موٹر اسپرٹ (پیٹرول) درآمد کرنے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو اپنے مارکیٹ شیئر کے مطابق مختص درآمدی کوٹے کی پابندی کرنا ہوگی اور ملکی ریفائنریوں سے لازمی مقدار میں مصنوعات اٹھانا (ریفائنری اپ لفٹ) ہوگا۔ جو کمپنیاں مقررہ مہینے میں اپنی درآمدی ذمہ داریاں پوری نہیں کریں گی یا ریفائنریوں سے طے شدہ مقدار میں مصنوعات نہیں خریدیں گی، انہیں نو ماہ تک آئندہ درآمدی کوٹے سے محروم رکھا جائے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان اصلاحات کا مقصد مقامی پیٹرولیم قیمتوں کو عالمی منڈی میں ہونے والی تبدیلیوں سے زیادہ تیزی سے ہم آہنگ کرنا اور قیمتوں کے تعین کے نظام میں شفافیت بڑھانا ہے۔ یہ تجویز ایسے وقت سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی سیاسی صورتحال، عالمی طلب میں اتار چڑھاؤ اور بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک کی پیداوار سے متعلق پالیسیوں کے باعث بین الاقوامی تیل کی منڈی مسلسل غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔
مجوزہ نظام کے تحت موٹر اسپرٹ (MS) اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) کی بنیادی فریٹ آن بورڈ (FOB) قیمت کا تعین پلاٹس عرب گلف کے شائع کردہ سات ورکنگ ڈیز کے رولنگ اوسط کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے پیٹرول کے لیے MS 92 RON اور ڈیزل کے لیے HSD 10 ppm بینچ مارک استعمال ہوں گے۔
موجودہ نظام کے برعکس جس میں عالمی قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیاں ایک مقررہ مدت کے بعد صارفین تک منتقل ہوتی ہیں، مجوزہ نظام کے تحت قیمتوں میں یومیہ ردوبدل ہوگا، جس سے بڑے پیمانے پر اچانک اضافے یا کمی کے امکانات کم ہوں گے۔
پالیسی میں درآمدی لاگت کو قیمتوں میں شامل کرنے کا نیا طریقہ کار بھی تجویز کیا گیا ہے۔
پیٹرول کے لیے اگر گزشتہ سات ورکنگ ڈیز کے دوران پی ایس او نے درآمد کی ہو تو اسی مدت کے دوران ادا کیے گئے اصل پریمیم، انسڈینٹلز اور کسٹمز ڈیوٹی کا ویٹڈ ایوریج قیمتوں میں شامل کیا جائے گا۔ اگر اس عرصے میں کوئی درآمد نہ ہوئی ہو تو کیلنڈر ایئر ٹو ڈیٹ اوسط لاگت استعمال کی جائے گی۔
اگر پی ایس او کسی غیر ملکی سپلائر، مثلاً عمان کی او کیو ٹریڈنگ (OQ Trading)، کے ساتھ طویل المدتی معاہدہ کرتی ہے تو درآمد نہ ہونے کی صورت میں اسی معاہدے کے تحت طے شدہ پریمیم کو قیمتوں کے تعین میں شامل کیا جائے گا۔
ہائی اسپیڈ ڈیزل کے لیے بھی اسی نوعیت کا نظام تجویز کیا گیا ہے۔ اگر حالیہ درآمد موجود ہو تو اصل پریمیم استعمال ہوگا، جبکہ درآمد نہ ہونے کی صورت میں پاکستان اسٹیٹ آئل اور کویت پیٹرولیم کارپوریشن (KPC) کے درمیان موجود طویل المدتی معاہدے کا پریمیم نافذ ہوگا۔ انسڈینٹلز اور کسٹمز ڈیوٹی کیلنڈر ایئر ٹو ڈیٹ اوسط کے مطابق شامل کی جائے گی۔
مجوزہ اصلاحات کا سب سے اہم پہلو قیمتوں کے تعین کا اختیار براہ راست اوگرا کو منتقل کرنا ہے۔
اس نئے نظام کے تحت اوگرا ہر ورکنگ ڈے پیٹرولیم مصنوعات کی ایکس ڈپو قیمتوں کا خود تعین اور اعلان کرے گا، جبکہ ڈائریکٹر جنرل آئل کے دفتر کو صرف اس سے آگاہ کیا جائے گا، جس سے قیمتوں کے تعین میں حکومتی انتظامی مداخلت نمایاں طور پر کم ہو جائے گی۔
تاہم حکومت پیٹرولیم لیوی (PL) کے ذریعے اپنے مالیاتی اختیارات برقرار رکھے گی۔ لیوی کی زیادہ سے زیادہ حد وفاقی کابینہ مقرر کرے گی، جبکہ ہر مالی سال کے لیے قابل اطلاق شرحیں وزارت خزانہ طے کرے گی۔ مالی سال کے دوران لیوی میں کسی بھی تبدیلی کے لیے وزارت خزانہ کی منظوری لازمی ہوگی۔
شفافیت کو مزید بہتر بنانے کے لیے اوگرا یکم جولائی 2026 سے اپنی ویب سائٹ پر پیٹرول اور ڈیزل کے پلاٹس عرب گلف بینچ مارک نرخ بھی روزانہ جاری کرے گا، تاکہ صارفین اور مارکیٹ کے شرکاء عالمی ریفرنس قیمتوں کا مقامی قیمتوں سے موازنہ کر سکیں۔
قیمتوں کے تعین کے دیگر تمام عوامل، جن میں شرح مبادلہ، ریفائنری ریگولیٹری ڈیوٹی (RRD)، ریسرچ آکٹین نمبر (RON) ایڈجسٹمنٹ، ڈیزل میں سلفر سے متعلق جرمانے اور ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن (IFEM) شامل ہیں، موجودہ نظام کے مطابق برقرار رہیں گے۔
یہ نیا طریقہ کار سپیریئر کیروسین آئل (SKO) اور لائٹ ڈیزل آئل (LDO) پر بھی لاگو ہوگا، جن کی قیمتیں بھی سات ورکنگ ڈیز کے رولنگ اوسط کی بنیاد پر روزانہ مقرر کی جائیں گی۔

Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔