جمعہ، 22-مئی،2026
جمعہ 1447/12/05هـ (22-05-2026م)

پی ٹی آئی کے ممبر خیبر پختونخوا اسمبلی کی فتنہ الخوارج سے مبینہ گٹھ جوڑ کی آڈیو لیک

20 مئی, 2026 14:34

خیبر پختونخوا کی حکمران سیاسی جماعت اور کالعدم تنظیم فتنہ الخوارج کے مابین مبینہ گٹھ جوڑ کی آڈیو منظر عام پر آئی ہے، جس میں آصف محسود کو بھتے اور اغوا سے استثنیٰ دینے پر بات چیت کی جارہی ہے۔

خیبر پختونخوا کی حکمران سیاسی جماعت اور کالعدم دہشت گرد تنظیم فتنہ الخوارج کے مابین مبینہ گٹھ جوڑ اور گہرے روابط کی ایک انتہائی حساس آڈیو لیک منظر عام پر آئی ہے۔

منظر عام پر آنے والی اس صوتی ریکارڈنگ میں افغانستان کے محفوظ ٹھکانے میں روپوش خوارجی سرغنہ بادشاہ اور پاکستان کے قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان میں موجود خوارجی سرغنہ راکٹی کے مابین ہونے والی انتہائی اہم گفتگو سنی جا سکتی ہے۔

اس آڈیو لیک میں خوارج کے ان دونوں اعلیٰ کمانڈروں نے خیبر پختونخوا کی حکمران سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے صوبائی اسمبلی کے رکن آصف محسود سے خصوصی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں اپنے کارندوں کی جانب سے اغوا کرنے اور ان سے بھتہ وصول کرنے سے سختی سے روک دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا وزیراعظم کو خط، سی این جی سیکٹر کو گیس کی فوری بحالی کا مطالبہ

آڈیو لیک کے اندر سنائی دینے والے مکالمے کے مطابق فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے راکٹی نامی دہشت گرد نے جنوبی وزیرستان کے علاقے میں کارروائی کرتے ہوئے خیبر پختونخوا کی حکمران سیاسی جماعت کے صوبائی اسمبلی کے رکن آصف محسود کو بھتے کا پرچہ دیا تھا اور ان کی گاڑی کی تلاشی بھی لی تھی۔

اس واقعے کی اطلاع ملتے ہی افغانستان میں بیٹھے خوارجی سرغنہ بادشاہ نے فوری طور پر مداخلت کی اور جنوبی وزیرستان میں موجود اپنے کمانڈر راکٹی کو وائرلیس یا فون پر ہنگامی حکم دیا کہ آصف محسود کو کسی بھی صورت اغوا نہیں کیا جائے گا۔

خوارجی سرغنہ بادشاہ کے مطابق آصف محسود چونکہ خیبر پختونخوا کی حکمران سیاسی جماعت کا بندہ ہے، اس لیے وہ ان کا اپنا ہمدرد ہے اور اسے بغیر کسی نقصان کے جانے دیا جائے، جبکہ تلاشی لینے کی جسارت پر اس سے باقاعدہ معذرت بھی کی جائے۔

اس حکم کے جواب میں خوارجی کمانڈر راکٹی نے بھی اپنے افغان سرغنہ کو تصدیق کی کہ اس نے صوبائی ممبر اسمبلی کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا ہے اور افغان خوارجی عناصر کے اس نرمی کے حکم پر مکمل عمل کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب دفاعی اور سیاسی ماہرین کے مطابق یہ آڈیو لیک اس تلخ اور ہولناک حقیقت کا واضح ثبوت ہے کہ خوارج اب خیبر پختونخوا کی حکمران سیاسی جماعت کے رہنماؤں کو اپنا قریبی اور ہمدرد مانتے ہیں اور اسی وجہ سے وہ انہیں اغوا اور بھتہ خوری سے مکمل استثنیٰ دے رہے ہیں۔

ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ یہ ثبوت اس بات کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ صوبے کی حکمران جماعت نے اپنے سیاسی مفادات کے لیے خوارج کو جو سیاسی اور سماجی جگہ فراہم کی ہے، اسی کا نتیجہ ہے کہ اب یہ خوارج اس جماعت کے ارکان کو اپنے ہی لوگ سمجھ کر تحفظ فراہم کر رہے ہیں، جو کہ ملکی سلامتی کے لیے ایک انتہائی خطرناک رجحان ہے۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔