سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے 12 ہزار اضافی قیدی بیرکوں میں بند رکھنے کا انکشاف

سندھ کی جیلوں میں قیدیوں کی تعداد کے حوالے سے سرکاری ریکارڈ منظر عام پر آیا ہے، جس کے مطابق صوبے بھر کی جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کو انتہائی مخدوش حالات میں بند کیا گیا ہے۔
سرکاری دستاویز کے مطابق سندھ کی مختلف جیلوں میں قیدیوں کو بھیڑوں اور بکریوں کی طرح ٹھونسنے اور گنجائش سے دگنا قیدیوں کو بند رکھا گیا ہے۔
یکم جون 2026 تک کے ریکارڈ کے مطابق سندھ بھر کی تمام جیلوں میں قیدیوں کو رکھنے کی کل منظور شدہ گنجائش صرف 14 ہزار 188 قیدیوں کی ہے، لیکن قانون اور انسانی حقوق کی دھجیاں اڑاتے ہوئے اس وقت جیلوں میں مجموعی طور پر 26 ہزار 959 قیدیوں کو قید کیا گیا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت صوبے کی بیرکوں اور سیلز میں 12 ہزار 771 قیدیوں کو مقررہ حد سے زائد اور غیر قانونی طور پر رکھا جا رہا ہے۔
اس بھیانک صورتحال میں سب سے برا حال کراچی سینٹرل جیل کا ہے، جہاں صرف 2 ہزار 400 قیدیوں کی گنجائش موجود ہے مگر وہاں 7 ہزار 985 قیدی بند ہیں، یعنی گنجائش سے 5 ہزار 585 قیدی زیادہ ٹھونسے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : سندھ میں نئے مالی سال کے ترقیاتی بجٹ کے لیے 900 ارب روپے سے زائد کی تجویز
اسی طرح ڈسٹرکٹ جیل ملیر میں 2 ہزار 200 کی گنجائش کے مقابلے میں 5 ہزار 644 قیدیوں کو رکھا گیا ہے، جو کہ حد سے 3 ہزار 444 قیدی زیادہ ہیں۔ حیدرآباد سینٹرل جیل میں بھی ایک ہزار 527 کی گنجائش کے خلاف 3 ہزار 9 قیدیوں کو قید کر کے رکھا گیا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے اس کچے چٹھے میں مزید بتایا گیا ہے کہ سندھ کی جیلوں میں بند ان قیدیوں میں سے 22 ہزار 644 ایسے ہیں، جن کا تاحال عدالتوں سے فیصلہ ہی نہیں ہوا اور وہ زیر سماعت ملزم کے طور پر بیرکوں میں سڑ رہے ہیں، جو کہ کل قیدیوں کا 83.99 فیصد بنتا ہے۔
سزا یافتہ مجرموں کی تعداد 3 ہزار 574 ہے جبکہ 459 قیدی ایسے ہیں، جنہیں سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔ اس رپورٹ کا سب سے اندوہناک اور افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جیلوں کی ان خوفناک اور گنجائش سے بھری بیرکوں میں اپنی ماؤں کے ساتھ 63 معصوم بچے بھی قید کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
ان بچوں میں سے 31 بچے کراچی کی خواتین جیل میں، 14 حیدرآباد میں اور 18 بچے سکھر کی خواتین جیل میں بند ہیں۔
صوبے بھر میں کل 438 خواتین قیدی اور 312 نوعمر یعنی کم عمر قیدی بھی ان جیلوں میں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف جیلوں کے اسپتالوں کے اندر 351 قیدی زیر علاج ہیں، جبکہ 56 قیدیوں کو علاج کے لیے جیل سے باہر کے اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے
یہ رپورٹ سندھ کے جیل خانے جات کے نظام اور قیدیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










