اقوامِ متحدہ کو بی ایل اے کو عالمی دہشت گرد تنظیم قرار دینا چاہیے: بلوچستان اور خطے کے امن کا تقاضا

بلوچستان کئی دہائیوں سے دہشت گردی، شورش، معاشی پسماندگی اور سیاسی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف صوبے کی ترقی کو متاثر کیا بلکہ عوام کے جان و مال کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔ ان حالات میں بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) خود کو بلوچ عوام کی نمائندہ تنظیم کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کی پرتشدد کارروائیاں بلوچستان کے عوام کے مفادات کے بجائے خوف، عدم استحکام اور تباہی کو فروغ دیتی ہیں۔
بی ایل اے صوبے میں موجود غربت، بے روزگاری، تعلیمی پسماندگی اور احساسِ محرومی جیسے مسائل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نوجوانوں کو اپنی صفوں میں شامل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ تنظیم مبینہ طور پر 15 سے 25 سال کی عمر کے نوجوانوں کو شدت پسندانہ نظریات سے متاثر کرتی ہے، انہیں خاندانوں سے الگ تھلگ کرتی ہے اور تشدد کو ایک مقصد کے طور پر پیش کرتے ہوئے خودکش کارروائیوں کے لیے تیار کرتی ہے۔ اس سلسلے میں تنظیم کا خودکش ونگ، مجید بریگیڈ، متعدد مہلک حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکا ہے۔
بلوچستان میں دہشت گردی کی حالیہ لہر صورتحال کی سنگینی کو مزید واضح کرتی ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 2024 کے دوران دہشت گردی کے 938 واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی۔ مارچ 2025 میں جعفر ایکسپریس پر حملہ، جس میں کم از کم 31 افراد جاں بحق ہوئے اور 300 سے زائد مسافروں کو یرغمال بنایا گیا، اس خطرے کی شدت کی ایک نمایاں مثال ہے۔
مصنفہ کے مطابق بی ایل اے کسی جائز سیاسی یا قوم پرست تحریک کی نمائندگی نہیں کرتی بلکہ ایک منظم دہشت گرد تنظیم ہے۔ وہ دعویٰ کرتی ہیں کہ اس گروہ کو بیرونی سرپرستی حاصل رہی ہے، جس کے ضمن میں کلبھوشن جادھو کیس کا حوالہ دیا جاتا ہے، جبکہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ اس کے مبینہ روابط کو بھی علاقائی سلامتی کے لیے باعثِ تشویش قرار دیا گیا ہے۔
بی ایل اے کی سرگرمیوں کے اثرات صرف پاکستان تک محدود نہیں۔ بلوچستان میں ہونے والی دہشت گرد کارروائیاں چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک)، اہم شاہراہوں، بندرگاہوں، توانائی منصوبوں اور بلوچستان کے معدنی وسائل سے وابستہ بین الاقوامی سرمایہ کاری کے لیے بھی خطرہ سمجھی جاتی ہیں۔ اس تناظر میں خطے کے امن اور معاشی استحکام کا تحفظ عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
اگرچہ امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا بی ایل اے اور اس کے خودکش ونگ مجید بریگیڈ کو اپنے ملکی قوانین کے تحت دہشت گرد تنظیم قرار دے چکے ہیں، تاہم اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی 1267 پابندیوں کی فہرست میں تنظیم کو شامل کرنے کی کوششیں تاحال کامیاب نہیں ہو سکیں۔ مصنفہ کا مؤقف ہے کہ پاکستان کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1373 کے تقاضوں کے مطابق مزید جامع اور مضبوط شواہد پیش کرنے چاہییں تاکہ عالمی سطح پر اس تنظیم کے خلاف مؤثر کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔
بی ایل اے کو اقوامِ متحدہ کی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنا، مصنفہ کے مطابق، اس کی مالی معاونت، بین الاقوامی نقل و حرکت اور تنظیمی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم وہ اس بات پر بھی زور دیتی ہیں کہ صرف سکیورٹی اقدامات دیرپا امن کی ضمانت نہیں بن سکتے۔ بلوچستان میں پائیدار استحکام کے لیے بہتر طرزِ حکمرانی، سیاسی شمولیت، معاشی ترقی، نوجوانوں کے لیے تعلیم اور روزگار کے مواقع، اور عوامی شکایات کے مؤثر ازالے کو بھی یکساں اہمیت دینا ہوگی۔
بلوچستان کے عوام امن، ترقی اور خوشحالی کے خواہاں ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف مؤثر عالمی تعاون، مضبوط ریاستی حکمتِ عملی اور عوامی فلاح پر مبنی اصلاحات ہی وہ راستہ ہیں جو صوبے کو تشدد کے دائرے سے نکال کر پائیدار امن، استحکام اور ترقی کی منزل تک پہنچا سکتے ہیں۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









