پیر، 4-مئی،2026
پیر 1447/11/17هـ (04-05-2026م)

انٹرنیٹ سروس سے متعلق حکومت کا بڑا فیصلہ

04 مئی, 2026 11:30

پنجاب حکومت نے صوبے کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں کو جدید ٹیکنالوجی سے جوڑنے کے لیے سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد ان علاقوں میں تیز رفتار انٹرنیٹ فراہم کرنا ہے جہاں روایتی نیٹ ورک یا فائبر آپٹک سروسز پہنچانا مشکل ہوتا ہے۔

یہ اعلان وزیراعلیٰ پنجاب کی سینیئر ایڈوائزر سینیٹر انوشہ رحمان نے لاہور میں ایک نجی یونیورسٹی میں منعقدہ لیڈرشپ سمٹ کے دوران کیا۔ تقریب میں ماہرین نے بلاک چین، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مستقبل کی آئی ٹی ضروریات پر بھی گفتگو کی۔

انوشہ رحمان نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکومت پنجاب “کنیکٹ دی آن کنیکٹڈ” مشن پر کام کر رہی ہے۔ اس منصوبے کے تحت ان تمام علاقوں کو انٹرنیٹ سے جوڑا جائے گا جہاں روایتی انفراسٹرکچر موجود نہیں ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے دیہات، اسکولوں، اسپتالوں اور کالجوں کو بھی جدید سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت نے آئندہ چار سالوں میں 60 لاکھ نوجوانوں کو ڈیجیٹل مہارتوں سے جوڑنے کا ہدف رکھا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے روزگار اور کاروبار کے نئے مواقع دینا ہے۔

حکام کے مطابق پنجاب میں آئی ٹی انفراسٹرکچر دیگر صوبوں کے مقابلے میں بہتر ہے، لیکن جنوبی پنجاب اور دور دراز علاقوں میں اب بھی انٹرنیٹ کی رفتار اور دستیابی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اسی خلا کو پر کرنے کے لیے سیٹلائٹ انٹرنیٹ کو ایک اہم حل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے ٹیلی میڈیسن، آن لائن تعلیم اور فری لانسنگ جیسے شعبوں کو بڑی ترقی مل سکتی ہے۔ دیہی علاقوں کے طلبہ بھی عالمی سطح کے کورسز اور مواقع سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔

تاہم ماہرین نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ سیٹلائٹ انٹرنیٹ عام طور پر مہنگا ہوتا ہے۔ اس لیے حکومت کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ اسے عام شہریوں کے لیے سستا اور قابل رسائی بنائے۔

اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوتا ہے تو اس سے نہ صرف ڈیجیٹل فاصلے کم ہوں گے بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے اور ملک کی آئی ٹی برآمدات میں اضافہ بھی ممکن ہوگا۔

Catch all the سائنس و ٹیکنالوجی News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔