"غزہ کو ترکیہ کا خودمختار حصہ قرار دیا جائے”

غزہ کو جمہوریہ ترکیہ کا خود مختار حصہ قرار دیا جائے (فوٹو: فائل)
سابق ترک وزیراعظم اور وزیر خارجہ کے غزہ سے متعلق بیان نے نیا ہنگامہ کھڑا کردیا۔
گزشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈو ٹرمپ کے غزہ کو پراپرٹی کیلئے بہترین جگہ قرار دینے کے بعد سابق ترک وزیراعظم اور وزیر خارجہ داؤد اوگلو نے کہا کہ غزہ کو جمہوریہ ترکیہ کا خود مختار حصہ قراردیا جائے۔
داؤد اوگلو نے کہا کہ نیو پاتھ پارٹی کے پارلیمانی بلاک کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے غزہ ترک جمہوریہ سلطنت عثمانیہ کے آئینی توسیع کی نمائندگی کرتا ہے۔ غزہ کے لوگ "کامریڈ اور فطری شہری” ہیں جن کی ترکیہ کے ساتھ مشترکہ تاریخ ہے۔
مزید پڑھیں: "امریکا غزہ پر قبضہ کرے گا تو فلسطینی واپس نہیں جاسکیں گے”
انہوں نے کہا کہ عثمانی سلطنت کے دوران غزہ ہمارا حصہ تھا اس لیے جمہوریہ ترکیہ کو غزہ کا خودمختار حصہ قرار دیا جائے تاکہ اسکی تعمیر نو مکمل کی جاسکے۔
حزب اختلاف کی فیوچر پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ "غزہ کے عوام کو ایک خودمختار علاقے کے طور پر ترک جمہوریہ سے منسلک ہونے کے لیے ایک عام ریفرنڈم کرانا چاہیے، جب تک کہ فلسطین کی ریاست قائم نہیں ہوجاتی انہیں فیصلے کا اختیار دینا چاہیے”۔
مزید پڑھیں: جنگ بندی معاہدہ؛ حماس کا یرغمالیوں کو رہا کرنے کا اعلان
داؤد اوگلو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ کو خریدنے یا اس کی ملکیت کے بارے میں بیانات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ 309 مربع کلومیٹر کے کل رقبے کے ساتھ یہ پٹی نہیں چاہتے بلکہ قبرص اور مصر کے درمیان "سمندر کے نظارے” والے علاقے کے حصول میں دلچسپی رکھتےہیں کیونکہ یہاں قدرتی گیس کے ذخائر موجود ہیں۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ کی اردن بادشاہ سے ملاقات، غزہ خریدنے سے متعلق گفتگو
سلطنت عثمانیہ برطانوی مینڈیٹ سے پہلے غزہ پر حکمرانی کرنے والی آخری آئینی ریاست تھی، فلسطینیوں کے حقوق کے تحفظ اور ان کی خودمختاری کو بحال کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












