بدھ، 10-جون،2026
بدھ 1447/12/24هـ (10-06-2026م)

امریکا نے ایران کے ڈرون پروگرام پر نئی پابندی عائد کردی

27 فروری, 2025 15:28

امریکی محکمہ خزانہ نے رواں ماہ کے اوائل میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بحال کی جانے والی ‘زیادہ سے زیادہ دباؤ کی مہم’ کے حصے کے طور پر ایران کے ڈرون پروگرام کو ہدف بناتے ہوئے نئی پابندیوں کا اعلان کردیا۔

امریکی وزارت خزانہ نے کہا کہ یہ پابندیاں چین اور ہانگ کانگ میں قائم چھ اداروں کو ہدف بناتی ہیں، وہ ایران کے یو اے وی اور بیلسٹک میزائل پروگرام کے لیے کلیدی سپلائرز کے طور پر خدمات انجام دینے والی دو ایرانی کمپنیوں کی جانب سے بغیر پائلٹ کے فضائی گاڑی (یو اے وی) کے اہم اجزاء کی "خریداری اور شپمنٹ” کے لئے فرنٹ کمپنیوں کے طور پر کام کر رہی ہیں۔

سیکٹری خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایک بیان میں کہا کہ ایران نئی فرنٹ کمپنیوں اور تیسرے ملک کے سپلائرز کے ذریعے اپنے یو اے وی ہتھیاروں کے پروگرام کو مضبوط بنانے کے لئے ضروری اہم اجزاء کی خریداری کے لئے نئے طریقے تلاش کرنے کی کوششیں جاری رکھا ہوا ہے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ایران کے خلاف نیا اقدام صدر ٹرمپ کی "ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی مہم” کی حمایت کرتا ہے۔

ٹرمپ نے اس مہم کا آغاز 2018 میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تاریخی معاہدے سے امریکا کی دستبرداری کے بعد اپنے پہلے دور حکومت کے دوران کیا تھا۔

وائٹ ہاؤس واپس آنے کے صرف دو ہفتے بعد انہوں نے رواں ماہ کے اوائل میں اپنی مہم دوبارہ شروع کی تھی۔

پالیسی کی بحالی کے باوجود امریکی صدر نے ایران کے ساتھ ایک معاہدے پر بات چیت کے لئے اپنی آمادگی کا اظہار کیا ہے۔
تاہم اسلامی جمہوریہ ایران نے امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے امکان کو اس وقت تک مسترد کر دیا ہے جب تک "زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی مہم” جاری رہے گی۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف کے ساتھ تہران میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ جوہری مذاکرات کے بارے میں ایران کا موقف بالکل واضح ہے، ہم دباؤ، دھمکی یا پابندیوں کے تحت مذاکرات نہیں کریں گے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔