جمعہ، 22-مئی،2026
جمعہ 1447/12/05هـ (22-05-2026م)

دنیا کو ایک بار پھر جنگل کے قانون کی طرف لوٹ جانے کے خطرے کا سامنا ہے، چینی صدر

20 مئی, 2026 12:55

چینی صدر نے روسی ہم منصب سے ملاقات کے دوران گرتی ہوئی عالمی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دنیا کے جنگل کے قانون کی طرف لوٹنے کے خطرے سے خبردار کیا ہے اور مشرق وسطیٰ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔

چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ نے اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پیوٹن کے ساتھ بات چیت کے دوران اس بات پر شدید زور دیا کہ موجودہ بگڑتی ہوئی عالمی صورت حال کے پس منظر میں ماسکو اور بیجنگ کے درمیان اچھی ہمسائیگی، تاریخی دوستی اور باہمی تعاون کا معاہدہ روز بروز بڑھتی ہوئی اہمیت اختیار کر رہا ہے۔

صدر شی جن پنگ نے دنیا کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ عالمی صورت حال اس وقت انتہائی بڑی اور ہولناک تبدیلیوں سے گزر رہی ہے اور اگر بڑی طاقتوں نے ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کیا تو دنیا کو ایک بار پھر طاقتور کی چوہدراہٹ یعنی جنگل کے قانون کی طرف لوٹ جانے کے سنگین خطرے کا سامنا ہے۔

سرکاری میڈیا کے مطابق چینی صدر نے ملاقات کے دوران مشرق وسطیٰ کی ابتر صورتحال پر بھی تفصیلی گفتگو کی اور خلیج کے خطے میں جاری تمام تر جارحیت اور دشمنی کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ دہرایا۔

یہ بھی پڑھیں : آبنائے ہرمز کا واحد حل امریکہ ایران کے درمیان مستقل جنگ بندی ہے، روس کی چینی مؤقف کی حمایت

شی جن پنگ کا کہنا تھا کہ خلیجی خطے کی موجودہ صورتحال اس وقت جنگ اور امن کے درمیان ایک انتہائی نازک موڑ پر کھڑی ہے اور اب یہ منتقلی کا وقت ہے، جہاں سے دنیا کو امن کی طرف بڑھنا ہوگا۔

چینی رہنما نے واضح کیا کہ خطے میں دشمنی اور جنگی جنون کا فوری خاتمہ ناگزیر ہو چکا ہے اور اس مرحلے پر جنگ کا دوبارہ شروع ہونا کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہوگا۔

انہوں نے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کو فروغ دینے کے لیے اپنے چار نکاتی امن منصوبے کا بھی ذکر کیا، جو انہوں نے گزشتہ ماہ ابوظہبی کے ولی عہد سے ملاقات میں پیش کیا تھا، جس کا مقصد پرامن بقائے باہمی، قومی خودمختاری کا احترام، عالمی قانون کی بالادستی اور ترقی و سلامتی کے مابین ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔

چینی صدر نے پیوٹن کو بتایا کہ بیجنگ اور ماسکو کے تعلقات اس اعلیٰ سطح پر اس لیے پہنچے ہیں کیونکہ دونوں ممالک نے مسلسل باہمی سیاسی اعتماد اور تزویراتی تعاون کو گہرا کیا ہے، اور چونکہ موجودہ دنیا میں یکطرفہ بالادستی عروج پر ہے، اس لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل ارکان ہونے کے ناطے چین اور روس کو طویل مدتی اسٹریٹجک نظریہ اپناتے ہوئے ایک زیادہ منصفانہ عالمی نظام کی تشکیل کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔