مشرق وسطیٰ میں دہشت گردی کی بنیاد صیہونیوں نے رکھی، ہولو کاسٹ سروائیور

ہولو کاسٹ سروائیور یہودی شہری نے انکشاف کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں دہشت گردی ایجاد کرنے والے دراصل خود صیہونی تھے اور اس کی بنیاد رکھنے والی تنظیم کے رہنما اب اسرائیل کے قومی ہیرو ہیں۔
جرمنی میں یہودیوں کے قتل عام (ہولو کاسٹ) سے زندہ بچ جانے والے ایک معمر شخص کے تاریخی بیان نے صیہونی ریاست کا اصل چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔
اس شخص نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں دہشت گردی کی بنیاد صیہونیوں نے رکھی تھی اور تاریخ کا ایک بدترین دہشت گرد ابراہم اسٹرن تھا۔
ابراہم اسٹرن ایک صیہونی نیم فوجی تنظیم کا رہنما اور اسٹرن گینگ کا بانی تھا، جس نے 1930 اور 40 کی دہائی میں فلسطین میں برطانوی حکومت کے خلاف جنگ لڑی تھی۔
یہ بھی پڑھیں : اسرائیلی وزیر اعظم نے فوج کو غزہ کے 70 فیصد علاقے پر قبضہ کرنے کا حکم دے دیا
آج کے جدید اسرائیل میں ابراہم اسٹرن کو ایک قومی ہیرو کا درجہ دیا جاتا ہے، حالانکہ وہ ایک ایسا شخص تھا، جس نے دوسری جنگ عظیم کے دوران ہٹلر کی نازی فوج کے ساتھ باقاعدہ فوجی اتحاد قائم کرنے کی پیشکش کی تھی۔
تاریخی دستاویزات کے مطابق 1941 میں اسٹرن نے ہٹلر کو ایک فوجی معاہدے کی پیشکش کی تھی، جس میں برطانیہ کے خلاف جرمنی کی طرف سے جنگ میں سرگرم حصہ لینے کا وعدہ کیا گیا تھا اور بدلے میں وہ ہٹلر سے صیہونی ریاست تسلیم کروانا چاہتا تھا۔
اس تنظیم کی تحریروں میں یہودیوں کو برتر نسل اور عربوں کو غلاموں کی قوم قرار دے کر فلسطینیوں کے قتل عام یا انہیں ملک بدر کرنے کی وکالت کی گئی تھی۔
اس گروپ نے مشرق وسطیٰ میں بینک ڈکیتیوں، شہروں میں ٹارگٹ کلنگ اور کار بم دھماکوں جیسے سفاکانہ ہتھکنڈے ایجاد کیے تھے۔
اس کے منشور میں مصر سے لے کر عراق تک ایک صیہونی سلطنت قائم کرنا شامل کرنا تھا، جس میں کسی بھی عرب کی موجودگی کو مکمل طور پر مسترد کیا گیا تھا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.








