امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی میڈیکل رپورٹ پر طبی ماہرین نے سوالات اٹھا دیئے

امریکی صدر ٹرمپ کی حالیہ میڈیکل رپورٹ جاری ہونے کے بعد ان کی صحت اور صدارتی شفافیت کے حوالے سے نئی بحث چھڑ گئی ہے اور طبی ماہرین نے کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔
واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے طبی معائنے کی 3 صفحات پر مشتمل تفصیلی رپورٹ جاری کی گئی ہے، جس کے بعد صدر کی صحت کے معاملے پر سیاسی اور طبی حلقوں میں نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ڈاکٹر شان باربا بیلا کی تیار کردہ اس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ رواں ماہ 80 سال کے ہونے والے صدر ڈونلڈ ٹرمپ مکمل طور پر صحت مند اور صدارتی فرائض انجام دینے کے اہل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ان کے دل، دماغ اور پھیپھڑوں کے افعال بہترین حالت میں ہیں۔ رپورٹ میں یہ عجیب دعویٰ بھی کیا گیا کہ کمپیوٹرائزڈ طریقے سے کیے گئے معائنے کے مطابق صدر کے دل کی عمر ان کی اصل عمر سے 14 سال کم ہے۔
یہ بھی پڑھیں : امریکی افواج کو عراق اور ایران میں نہیں ہونا چاہیے تھا، ڈونلڈ ٹرمپ
رپورٹ میں ان کے وزن میں 14 پاؤنڈ کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو اب 238 پاؤنڈ ہو چکا ہے، جبکہ ہاتھوں پر نیل کے نشانات کو زیادہ ہاتھ ملانے اور اسپرین کے استعمال سے جوڑا گیا ہے۔
تاہم، دوسری جانب معروف ماہرین طب نے اس رپورٹ پر شک کا اظہار کیا ہے۔ ماہر امراض قلب جوہان رینر اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے شعبہ طب کے سربراہ باب واچٹر نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر صدر بالکل ٹھیک ہیں تو ان کے بار بار سی ٹی اسکین کیوں کیے جا رہے ہیں اور انہیں اسپرین کے ساتھ کولیسٹرول کم کرنے والی 2 دوائیں کیوں دی جا رہی ہیں؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں صدارتی تھکن اور دن میں نیند آنے جیسے مسائل کا کوئی جواب نہیں دیا گیا، جس کی وجہ سے یہ رپورٹ شکوک و شبہات کا شکار ہو رہی ہے۔
یاد رہے کہ جنوری 2025 میں دوبارہ صدر بننے والے ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کے معمر ترین صدر ہیں، جنہوں نے انتخابی مہم میں جو بائیڈن کی عمر کو نشانہ بنایا تھا مگر خود اپنی میڈیکل رپورٹ پبلک کرنے کا وعدہ پورا نہیں کیا تھا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












