ٹرمپ کی ترمیم شدہ تجاویز کا تیسرا مسودہ پاکستان کے ذریعے ایران منتقل

امریکی صدر کی جانب سے ایران کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت میں کی گئی نئی ترامیم کا تیسرا مسودہ پاکستان کے ذریعے تہران بھیج دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے مسودے میں تیسری بار اہم ترامیم کی ہیں اور یہ ترمیم شدہ فائل تہران کو واپس بھیج دی گئی ہے۔
امریکی نیوز نیٹ ورک سی بی ایس کے مطابق پاکستان اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان پیغامات اور تجاویز کی منتقلی کے لیے اہم ترین ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ٹرمپ کے مطالبات ماننے کے پابند نہیں، مسودے میں اپنی ترامیم شامل کریں گے، ایران
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حالیہ مسودے میں ٹرمپ نے انتہائی سخت دفعات شامل کی ہیں، جن کے باعث مذاکرات کا دورانیہ طویل ہو سکتا ہے، کیونکہ ٹرمپ ایران کے منجمد فنڈز کی بڑی رقم جاری کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔
فاکس نیوز کو دیئے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ سفارتی حل چاہتے ہیں تاکہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر تجارتی جہاز رانی کے لیے مفت کھولا جا سکے، تاہم اگر یہ معاہدہ اچھا نہ ہوا تو وہ دوبارہ فوجی آپشن استعمال کریں گے۔
اس وقت مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ 440 کلوگرام اعلیٰ افزودہ یورینیم کا مستقبل ہے، جسے امریکا اپنے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ ایران اسے کسی تیسرے ملک یا امریکا منتقل کرنے سے انکاری ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاہدے تک پہنچنے کے لیے فی الحال کوئی آخری تاریخ یا مہلت مقرر نہیں کی گئی ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












