منگل، 30-جون،2026
منگل 1448/01/15هـ (30-06-2026م)

دوہا میں صرف اثاثوں پر بات ہو گی، ایران کی امریکا کے ساتھ مذاکرات کی خبروں کی تردید

30 جون, 2026 09:31

ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ قطر میں امریکا سے بات چیت صرف منجمد اثاثوں کی واپسی کی یادداشت پر عمل درآمد کی نگرانی تک محدود ہے۔

ایران کی وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ دوہا میں امریکی حکام کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات طے نہیں ہیں اور ایرانی وفد کا دورہ قطر صرف منجمد اثاثوں کی واپسی کی یادداشت پر عمل درآمد کی نگرانی تک محدود ہے۔

ایران کی وزارت خارجہ نے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ تہران کی موجودہ اولین ترجیح مفاہمت کی یادداشت پر عمل درآمد ہے اور اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ اس کی تمام شقوں پر مکمل اور سنجیدگی سے عمل کیا جائے۔

امریکا کی جانب سے شق نمبر 10 کے تحت تیل کی فروخت کے لیے ضروری اجازت نامے جاری کر دیے گئے ہیں اور ایران اس عمل کی نگرانی کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ایرانی درخواست پر دوہا میں بیٹھک ہوگی، یہ اجلاس اہم بھی ہو سکتا ہے اور نہیں بھی، ٹرمپ

اس کے ساتھ ہی ایران شق نمبر 11 کے تحت اپنے منجمد اثاثوں کی رہائی کے معاملے کی بھی پیروی کر رہا ہے، جس کے لیے ایرانی ماہرین کا ایک وفد رواں ہفتے دوہا کا دورہ کرے گا۔

وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران ابھی حتمی معاہدے کے مذاکرات کے مرحلے میں داخل نہیں ہوا کیونکہ مفاہمت کی شق نمبر 13 کے مطابق حتمی مذاکرات اسی وقت شروع ہو سکتے ہیں، جب شق نمبر 1، 4، 10 اور 11 پر مکمل عمل درآمد ہو جائے۔

تہران نے اصرار کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں کسی بھی سطح پر امریکا کے ساتھ مذاکراتی ملاقاتیں شیڈول نہیں ہیں اور امریکی نمائندوں کا قطر کا دورہ ایرانی وفد کے دورے سے مختلف ہے، جو صرف شق نمبر 11 پر کام کرنے جا رہا ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی امریکی میڈیا ایکسیوس کی اس رپورٹ کو مسترد کر دیا، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کوشنر قطری وزیر اعظم محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی سے ایران مذاکرات پر بات کریں گے اور بدھ کے روز ایرانی اور امریکی ٹیمیں قطری و پاکستانی ثالثوں سے الگ الگ ملاقاتیں کریں گی۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔