عرب اتحادیوں کی اپیل پر ایران پر حملہ روکا، آبنائے ہرمز اور ایٹمی معاملے پر مذاکرات آج ہوں گے، ٹرمپ

امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کیا جا رہا ہے، جو سفارتی فریم ورک کے تحت ہوں گے، جن میں آبنائے ہرمز اور ایران کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے کے امور کا احاطہ کیا جائے گا۔
واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ 2 اگست کو امریکی افواج کو حملے فی الحال روکنے کا حکم دیا گیا تھا تاکہ چھٹے مہینے میں داخل ہونے والی جنگ کے خاتمے اور معاہدے کی طرف بڑھا جا سکے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ انہوں نے یہ قدم سعودی عرب کے بادشاہ اور ولی عہد، متحدہ عرب امارات، قطر اور خود ایران کی اپیل پر اٹھایا ہے۔ اتحادی ممالک کا ماننا تھا کہ ایک ممکنہ معاہدہ قریب موجود ہے، اسی لیے فوجی کارروائی کے بجائے مذاکرات کا موقع دینا بہتر حکمت عملی ہو گی۔
یہ بھی پڑھیں : خفیہ دستاویز لیک : ایران جنگ میں 14 امریکی فوجیوں کی ہلاکت اور 400 سے زائد کے زخمی ہونے کا انکشاف
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر یہ حملہ کر دیا جاتا تو یہ دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا کا سب سے بڑا عسکری حملہ ہوتا، جو انتہائی تباہ کن ثابت ہو سکتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور دیگر اتحادیوں کا مؤقف تھا کہ اتنے بڑے حملے کے نتیجے میں پورا خطہ متاثر ہو سکتا ہے اور پناہ گزینوں کی نقل و حرکت جیسے سنگین مسائل جنم لے سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ایران کے ساتھ رابطے طے شدہ فریم ورک کے مطابق جاری ہیں اور باضابطہ مذاکرات کا آغاز کیا جا رہا ہے۔
امریکی صدر کے مطابق ان مذاکرات میں بنیادی توجہ آبنائے ہرمز کے معاملے اور ایران کو جوہری ہتھیاروں سے مکمل پاک کرنے یعنی ڈی نیوکلیئرائزیشن پر ہو گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ جب چاہے مذاکرات کے لیے تیار ہے اور وہ دیکھیں گے کہ گفتگو کے نتیجے میں کیا صورتحال سامنے آتی ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









