اتوار، 1-مارچ،2026
ہفتہ 1447/09/11هـ (28-02-2026م)

نام نہاد شائننگ انڈیا کی اے آئی سمٹ عالمی رسوائی کی علامت بن گئی

19 فروری, 2026 10:02

بھارت میں منعقد ہونے والی نام نہاد شائننگ انڈیا اے آئی سمٹ عالمی سطح پر سبکی اور تنقید کا باعث بن گئی، جب ایک بھارتی نجی جامعہ کو چینی ساختہ روبوٹک کتے کو اپنی ایجاد قرار دینے پر شدید ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔

معاملہ اس وقت سنگین صورت اختیار کر گیا جب عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز نے اس دعوے کی حقیقت بے نقاب کر دی، جس کے بعد بھارتی حکومت کو مداخلت کرتے ہوئے متعلقہ جامعہ کا اسٹال خالی کرانا پڑا۔

رپورٹ کے مطابق نئی دہلی میں منعقدہ مرکزی اے آئی سمٹ میں گالگوٹیا یونیورسٹی نے ایک روبوٹک ڈاگ کو اپنی تکنیکی تخلیق کے طور پر پیش کیا۔ بعد ازاں معلوم ہوا کہ مذکورہ روبوٹ دراصل چین میں تیار کیا گیا تھا اور اسے مقامی ایجاد کے طور پر پیش کرنا حقائق کے منافی تھا۔ اس انکشاف کے بعد سوشل میڈیا اور عالمی ذرائع ابلاغ میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔

بتایا گیا ہے کہ جامعہ کی ایک پروفیسر نہا سنگھ نے سمٹ کے دوران چینی ساختہ روبوٹک ڈاگ کو اپنی یونیورسٹی کی تحقیق اور اختراع قرار دیا۔ ان کا یہ بیان وائرل ہونے کے بعد نہ صرف ماہرین نے سوالات اٹھائے بلکہ عالمی سطح پر بھارت کی ساکھ بھی متاثر ہوئی۔ معاملے نے اس وقت مزید شدت اختیار کی جب غیر ملکی میڈیا نے اس دعوے کو حقائق کے برعکس قرار دیا۔

ہزیمت کے بعد بھارتی حکومت کو مجبوراً کارروائی کرنا پڑی اور گالگوٹیا یونیورسٹی کو ہدایت دی گئی کہ وہ سمٹ میں قائم اپنا اسٹال ختم کرے۔ اس پیش رفت نے نہ صرف سمٹ کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگا دیا بلکہ بھارت کے اس بیانیے کو بھی دھچکا پہنچایا، جس میں خود انحصاری اور مقامی ٹیکنالوجی کے فروغ کا دعویٰ کیا جاتا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : بھارتی انتہاپسندی کا سیاہ باب، سمجھوتہ ایکسپریس کے متاثرین آج بھی انصاف کے منتظر

سمٹ کے دوران انتظامی بد نظمی کی بھی اطلاعات سامنے آئیں۔ شرکاء نے سست رفتار انٹرنیٹ، تکنیکی رکاوٹوں اور بعض اسٹالز سے اشیاء کی چوری جیسے واقعات کی نشاندہی کی۔ ان مسائل نے تقریب کے انتظامات پر بھی سوالات کھڑے کر دیے اور یہ تاثر ابھرا کہ جس ایونٹ کو عالمی سطح پر جدید ٹیکنالوجی کی نمائش کے طور پر پیش کیا جا رہا تھا، وہ بنیادی سہولیات کی فراہمی میں بھی مشکلات کا شکار رہا۔

یہ سمٹ بھارت کے لیے گلے کی ہڈی بن گئی ہے۔ اس واقعے نے میک ان انڈیا جیسے نعروں کی حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے اور یہ واضح کیا ہے کہ دعووں اور عملی اقدامات میں نمایاں فرق موجود ہے۔ تکنیکی میدان میں خود کفالت اور جدت کے بلند بانگ دعوے اس واقعے کے بعد تنقید کی زد میں آ گئے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کی نام نہاد ترقی، جدت اور ٹیکنالوجی کا بیانیہ زیادہ تر تشہیری مہمات اور سرکاری بیانات تک محدود دکھائی دیتا ہے۔ عالمی سطح پر ساکھ قائم کرنے کے لیے محض نمائشی اقدامات کافی نہیں بلکہ شفافیت، تحقیق اور حقیقی اختراعات ضروری ہیں۔

روبوٹک ڈاگ کے معاملے نے اس بحث کو مزید تقویت دی ہے کہ آیا بھارت واقعی جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں وہ مقام حاصل کر چکا ہے جس کا دعویٰ کیا جاتا ہے، یا پھر یہ سب ایک تشہیری حکمت عملی کا حصہ ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔