ایران نے حساس تنصیبات کو مضبوط پناہ گاہوں میں بدل دیا

حالیہ سیٹلائٹ تصاویر اور تحقیقی تجزیوں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایران نے اپنے حساس فوجی اور ایٹمی مقامات کی حفاظت کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے ہیں۔
ماہرین کے مطابق گزشتہ چند ماہ کے دوران کنکریٹ کے مضبوط ڈھانچے تعمیر کیے گئے، زیر زمین سرنگوں کے داخلی راستوں کو مٹی سے ڈھانپ کر چھپایا گیا اور ان میزائل اڈوں کی تعمیرِ نو کی گئی جو پہلے حملوں کا نشانہ بن چکے تھے۔
تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک اہم فوجی مقام پر نئی تنصیب کے اوپر پہلے کنکریٹ کی موٹی تہہ ڈالی گئی اور بعد ازاں اسے مٹی سے ڈھانپ دیا گیا تاکہ فضائی نگرانی سے بچایا جا سکے۔ اسی طرح ایک ایٹمی مقام پر سرنگوں کے داخلی راستوں کو مکمل طور پر مٹی تلے دبایا گیا ہے۔

یہ وہ مقام ہے جس پر گزشتہ برس اسرائیل اور ایران کے درمیان بارہ روزہ جنگ کے دوران بمباری کی گئی تھی۔ مزید یہ کہ ایک اور مقام کے قریب سرنگوں کے راستوں کو مضبوط کیا گیا اور تنازع کے دوران متاثر ہونے والے میزائل اڈوں کی مرمت کی گئی۔
پارچین فوجی کمپلیکس، جو تہران سے تقریباً تیس کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے، ایران کے انتہائی حساس فوجی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ اکتوبر 2024 میں اس کمپلیکس پر بمباری کی اطلاعات سامنے آئیں، جس کے بعد کی تصاویر میں ایک مستطیل عمارت کو شدید نقصان پہنچا ہوا دیکھا گیا۔

چھ نومبر 2024 کی تصاویر میں اس عمارت کی دوبارہ تعمیر کے آثار نمایاں تھے، جب کہ اکتوبر اور نومبر 2025 کی تصاویر میں ایک نئی عمارت کا ڈھانچہ اور اس کے قریب دو چھوٹی عمارتیں دیکھی گئیں۔ بعد ازاں فروری تک یہ ڈھانچہ مکمل طور پر نظروں سے اوجھل ہو گیا کیونکہ اسے کنکریٹ کی مضبوط تہہ سے ڈھانپ دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں : معاہدہ نہ ہوا تو بحرِ ہند کے اڈے سے حملہ ہوگا : امریکی صدر کی ایران کو پھر دھمکی
انسٹی ٹیوٹ فار سائنس اینڈ انٹرنیشنل سکیورٹی نے اپنے تجزیے میں اس مقام پر نئی تنصیب، جسے طالقان دو کا نام دیا گیا، کے گرد کنکریٹ کے مضبوط حصار کی تعمیر کی نشاندہی کی۔
ماہرین کے مطابق یہاں ایک طویل سلنڈر نما ساخت بھی دیکھی گئی جو ممکنہ طور پر طاقتور دھماکا خیز مواد رکھنے کے لیے استعمال ہو سکتی ہے۔ ایسے ڈھانچے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال ہوتے ہیں، تاہم انہیں روایتی ہتھیاروں کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چھت کا رنگ ارد گرد کی زمین جیسا رکھا گیا تاکہ اسے فضائی نگرانی سے بچایا جا سکے۔

اصفہان کمپلیکس، جو ایران میں یورینیم کی افزودگی کے تین بڑے مراکز میں سے ایک ہے، حالیہ مہینوں میں خاص توجہ کا مرکز رہا ہے۔ جون میں اس مقام پر بمباری کے بعد لی گئی تصاویر میں سرنگوں کے داخلی راستوں کو مرحلہ وار بند کیے جانے کے شواہد ملے۔
جنوری کے اختتام تک دو راستے دفن کیے جا چکے تھے اور فروری کے آغاز میں تیسرا راستہ بھی بند کر دیا گیا، جس کے بعد تمام داخلی راستے مکمل طور پر مٹی تلے چھپ گئے۔ ماہرین کے مطابق اس اقدام سے کسی بھی ممکنہ فضائی حملے کا اثر کم ہو جائے گا اور زمینی کارروائی کے ذریعے وہاں موجود افزودہ یورینیم تک رسائی مشکل ہو جائے گی۔

نطنز کے قریب ایک پہاڑی علاقے میں واقع سرنگوں کے راستوں کو بھی مضبوط بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ تصاویر میں بھاری مشینری، سیمنٹ مکسر اور مٹی ڈھونے والے ٹرکوں کی سرگرمیاں دیکھی گئیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ اس مقام کو مزید محفوظ بنانے کا عمل تسلسل سے جاری ہے۔ اس تنصیب کے مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں واضح معلومات دستیاب نہیں، تاہم سرگرمیوں کی رفتار غیر معمولی بتائی جا رہی ہے۔
شیراز کے جنوبی میزائل اڈے، جو شہر سے تقریباً دس کلومیٹر دور واقع ہے، کو بھی گزشتہ جنگ کے دوران نقصان پہنچا تھا۔ تازہ تصاویر میں لاجسٹک کمپلیکس میں مرمت اور صفائی کے آثار ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ مقام ممکنہ طور پر ہیڈ کوارٹر کے طور پر استعمال ہوتا ہے، تاہم ابھی تک اسے مکمل عملی صلاحیت حاصل نہیں ہو سکی۔

اسی طرح قم کے شمال میں واقع میزائل اڈے پر بھی درمیانے درجے کا نقصان رپورٹ ہوا تھا۔ جولائی 2025 اور فروری کی تصاویر کے موازنہ سے معلوم ہوتا ہے کہ متاثرہ عمارت کی چھت کی مرمت کر دی گئی ہے۔ یہ مرمت نومبر میں شروع ہوئی اور چند ہی دنوں میں مکمل کر لی گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اپنے دفاعی ڈھانچے کو جلد از جلد بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
مجموعی طور پر سیٹلائٹ تصاویر سے ملنے والی معلومات یہ ظاہر کرتی ہیں کہ ایران نے اپنے حساس فوجی اور ایٹمی مقامات کو ممکنہ حملوں سے بچانے کے لیے وسیع پیمانے پر قلعہ بندی کی ہے۔ کنکریٹ کے مضبوط حصار، مٹی سے ڈھکے ڈھانچے، سرنگوں کی بندش اور میزائل اڈوں کی تیز رفتار مرمت اس بات کا اشارہ دیتی ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں دفاعی تیاریوں کو اعلیٰ ترین سطح پر لے جایا جا رہا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









