ہفتہ، 28-فروری،2026
ہفتہ 1447/09/11هـ (28-02-2026م)

امریکہ ایران پر بڑے حملے کا فیصلہ کرچکا : رپورٹ

19 فروری, 2026 12:39

ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق امریکی انتظامیہ ایران کے ساتھ ایک بڑے فوجی تصادم کے پہلے سے کہیں زیادہ قریب دکھائی دے رہی ہے اور ذرائع کے مطابق مشرقی وسطیٰ میں ایسی جنگ کسی بھی وقت شروع ہو سکتی ہے، جس کا اندازہ خود امریکی عوام کو بھی مکمل طور پر نہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی ممکنہ امریکی فوجی آپریشن کی نوعیت محدود کارروائی کے بجائے ہفتوں پر محیط ایک وسیع جنگی مہم جیسی ہو سکتی ہے، جو گزشتہ ماہ وینزویلا میں ہونے والی محدود نوعیت کی کارروائی سے کہیں زیادہ بڑی اور ہمہ گیر ہوگی۔

یہ امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی ہو سکتی ہے، جس کا دائرہ کار وسیع اور ایرانی نظام کے لیے زیادہ وجودی نوعیت کا ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق ایسی کسی جنگ کے پورے خطے پر ڈرامائی اثرات مرتب ہوں گے اور ٹرمپ کی صدارت کے باقی ماندہ عرصے پر بھی اس کے گہرے اثرات پڑ سکتے ہیں، تاہم کانگریس اور عوام کی توجہ دیگر معاملات میں مصروف ہونے کے باعث اس ممکنہ بڑے فوجی اقدام پر عوامی سطح پر خاطر خواہ بحث نہیں ہو رہی، حالانکہ یہ گزشتہ ایک دہائی میں مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کی سب سے اہم فوجی مداخلت ثابت ہو سکتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے جنوری کے اوائل میں حکومت مخالف مظاہرین کی ہلاکتوں کے معاملے پر ایران پر حملے کے کا فیصلہ مؤخر کیا، جس کے بعد حکمتِ عملی کو دو رخی راستے میں تبدیل کیا گیا، جس میں ایک جانب جوہری مذاکرات اور دوسری جانب وسیع فوجی تعیناتی شامل ہے اور مذاکرات میں تاخیر کے ساتھ خطے میں بھاری عسکری قوت کی منتقلی نے اس تاثر کو مضبوط کیا ہے کہ اگر معاہدہ نہ ہو سکا تو کارروائی کی نوعیت بڑی ہوگی، جبکہ موجودہ حالات میں کسی معاہدے کے امکانات کم دکھائی دے رہے ہیں۔

ٹرمپ کے مشیروں جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف نے جنیوا میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے تین گھنٹے طویل ملاقات کی، جہاں دونوں فریقوں نے پیش رفت کا عندیہ تو دیا مگر اختلافات بدستور وسیع بتائے جا رہے ہیں اور امریکی حکام ان اختلافات کے جلد ختم ہونے کے بارے میں پُرامید نہیں، اسی تناظر میں نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ مذاکرات بعض حوالوں سے مثبت رہے لیکن یہ بھی واضح ہو گیا کہ صدر کی مقرر کردہ ریڈ لائنز ایسی ہیں، جنہیں ایران تسلیم کرنے کرنے کو تیار نہیں، جبکہ انہوں نے عندیہ دیا کہ ٹرمپ معاہدہ چاہتے ہیں مگر یہ بھی طے کر سکتے ہیں کہ سفارت کاری اپنی حد کو پہنچ چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : اسرائیل نے ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر حملے کی تیاریاں شروع کردیں

اس وقت زمینی صورتحال یہ ہے کہ خطے میں امریکی عسکری قوت میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے، جس میں دو طیارہ بردار بحری جہاز، درجن بھر جنگی بحری جہاز، سینکڑوں لڑاکا طیارے اور متعدد فضائی دفاعی نظام شامل ہیں، جن میں سے کچھ اب بھی تعیناتی کے مراحل میں ہیں، اس کے علاوہ 150 سے زائد امریکی فوجی کارگو پروازوں کے ذریعے ہتھیار اور گولہ بارود مشرقِ وسطیٰ منتقل کیا جا چکا ہے اور گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 50 لڑاکا طیارے، جن میں ایف 35، ایف 22 اور ایف 16 شامل ہیں، خطے کی جانب روانہ کیے گئے ہیں۔

رپورٹ بتاتی ہے کہ جنگ توقع سے زیادہ جلد اور زیادہ بڑی ہو سکتی ہے، جبکہ ٹرمپ کی عسکری اور بیانیے کی سطح پر مسلسل سختی نے ان کے لیے ایران کے جوہری پروگرام پر بڑی رعایت حاصل کیے بغیر پسپائی کو مشکل بنا دیا ہے اور ان کے قریبی مشیر اس وسیع عسکری تعیناتی کو محض دباؤ ڈالنے کی حکمتِ عملی نہیں سمجھتے۔

اسرائیلی حکومت ایسے منظرنامے کی تیاری کر رہی ہے، جس میں آنے والے دنوں میں جنگ کا آغاز ممکن ہو اور جس کا ہدف صرف جوہری اور میزائل پروگرام ہی نہیں بلکہ نظام کی تبدیلی تک ہو سکتا ہے۔

اگرچہ بعض امریکی ذرائع کا خیال ہے کہ امریکا کو مزید وقت درکار ہو سکتا ہے اور سینیٹر لنڈسے گراہم کے مطابق ممکنہ حملے میں ابھی چند ہفتے لگ سکتے ہیں، تاہم دیگر ذرائع کہتے ہیں کہ مدت اس سے کم بھی ہو سکتی ہے اور ایک مشیر کے بقول صدر بے چینی کا شکار ہیں اور اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو آئندہ چند ہفتوں میں فوجی کارروائی کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔

امریکی حکام نے حالیہ مذاکرات کے بعد ایران کو دو ہفتوں میں تفصیلی تجویز پیش کرنے کی مہلت دینے کی بات بھی کی ہے۔

یاد رہے کہ ماضی میں بھی وائٹ ہاؤس نے دو ہفتوں کی مہلت مقرر کرنے کے بعد مختصر وقفے میں فوجی آپریشن کا فیصلہ کیا تھا، اور موجودہ حالات میں کسی بڑے سفارتی بریک تھرو کے واضح آثار نظر نہیں آ رہے جبکہ اس کے برعکس ایسے شواہد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ کا خطرہ تیزی سے قریب آ رہا ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔