ہفتہ، 28-فروری،2026
ہفتہ 1447/09/11هـ (28-02-2026م)

بھارتی جامعات میں سنسرشپ میں اضافہ، مودی حکومت پر تنقید

20 فروری, 2026 11:22

بھارت میں وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کو تعلیمی آزادی محدود کرنے اور اختلافِ رائے کو دبانے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ انتہا پسند ہندوتوا نظریے کے فروغ کے ساتھ جامعات میں سنسرشپ بڑھتی جا رہی ہے اور علمی ماحول متاثر ہو رہا ہے۔

مبصرین کے مطابق بھارت میں مذہبی اور نسلی اقلیتوں کو نہ صرف سماجی دباؤ کا سامنا ہے بلکہ اختلافِ رائے، تنقیدی سوچ اور شناخت کے اظہار پر بھی قدغنیں لگائی جا رہی ہیں۔ ان اقدامات کے نتیجے میں داخلی تقسیم اور سماجی و سیاسی کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

بھارتی جریدے دی وائر کی رپورٹ کے مطابق نئی دہلی میں قائم انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی دہلی میں منعقدہ ایک کانفرنس کو شدید سیاسی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ بھی پڑھیں : مودی کی ناقص سفارتی حکمت عملی، بھارت مہنگی درآمدات کے بوجھ تلے دب گیا

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تعلیمی اداروں میں سنسرشپ معمول بنتی جا رہی ہے اور ذات پات، اقلیتوں کے حقوق، قوم پرستی یا ریاستی تشدد جیسے موضوعات پر تنقیدی اظہار کو سیاسی رنگ دے دیا جاتا ہے۔

اسی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ انڈین کونسل آف سوشل سائنس ریسرچ جیسے سرکاری مالی معاونت کے ادارے بھی حکومتی بیانیے کو ترجیح دینے پر مجبور دکھائی دیتے ہیں، جس سے علمی تحقیق کی آزادی متاثر ہو رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جامعات میں آزادیٔ رائے پر پابندیوں نے بھارت کے کھوکھلے جمہوری دعوؤں کو کمزور کر دیا ہے۔ تعلیمی ادارے، جو علمی مکالمے اور تحقیق کے مراکز سمجھے جاتے تھے، اب حکومتی دباؤ کے زیر اثر کام کرنے پر مجبور ہیں۔

تجزیہ کاروں کے نزدیک اقلیتوں کی آواز محدود کرنے کے بعد اب تعلیمی اداروں اور محققین کی سرگرمیوں کو بھی کڑی نگرانی میں رکھا جا رہا ہے، جس سے علمی آزادی اور تنقیدی مباحث کا دائرہ سکڑتا جا رہا ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔