اسلامی ممالک کی اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کے بیان کی شدید مذمت

پاکستان، سعودی عرب، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا،ترکی، قطر، کویت، عمان، بحرین، لبنان، شام اور فلسطین کی وزارتِ خارجہ نے تنظیمِ تعاونِ اسلامی، عرب لیگ اور خلیج تعاون کونسل کے ہمراہ ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے اسرائیل میں امریکہ کے سفیر کے حالیہ بیانات کی شدید مذمت اور گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ سفیر کے ان ریمارکس میں یہ اشارہ دیا گیا کہ اسرائیل کا عرب ریاستوں کی سرزمین بشمول مقبوضہ مغربی کنارہ پر کنٹرول حاصل کرنا قابلِ قبول ہو سکتا ہے، جو نہ صرف خطرناک بلکہ اشتعال انگیز بھی ہیں۔
مشترکہ اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ ایسے بیانات کو شریک ممالک کی جانب سے قطعی طور پر مسترد کیا جاتا ہے، کیونکہ یہ بین الاقوامی قانون کے اصولوں اور اقوامِ متحدہ کے منشور کی صریح خلاف ورزی ہیں اور خطے کی سلامتی و استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔
وزارتی سطح پر اس امر پر زور دیا گیا کہ کسی بھی ریاست کو دوسرے ملک یا مقبوضہ علاقے پر خودمختاری کا دعویٰ کرنے کا کوئی قانونی جواز حاصل نہیں۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ یہ بیانات امریکہ کے صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کے پیش کردہ وژن اور غزہ تنازعے کے خاتمے کے جامع منصوبے سے براہِ راست متصادم ہیں۔ اس منصوبے کا مقصد کشیدگی کو روکنا اور ایک ایسے سیاسی حل کی راہ ہموار کرنا بتایا گیا ہے جو فلسطینی عوام کو ان کی آزاد ریاست کا حق فراہم کرے۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان کا افغانستان میں موجود فتنہ الخوارج کے سات ٹھکانوں پر حملہ
وزرائے خارجہ نے اس بات کو اجاگر کیا کہ امن، رواداری اور پرامن بقائے باہمی کے فروغ کے لیے ایسے بیانات نقصان دہ ہیں جو دوسروں کی زمین پر قبضے کو جائز قرار دینے کی کوشش کریں۔
مشترکہ اعلامیے میں اس مؤقف کا اعادہ کیا گیا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں یا کسی بھی دوسری مقبوضہ عرب سرزمین پر اسرائیل کی کوئی خودمختاری تسلیم نہیں کی جا سکتی۔
مغربی کنارے کو ضم کرنے یا اسے غزہ کی پٹی سے الگ کرنے کی کسی بھی کوشش کو سختی سے مسترد کیا گیا اور مقبوضہ علاقوں میں بستیوں کی توسیع کو غیر قانونی قرار دیا گیا۔ ساتھ ہی عرب ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے خلاف کسی بھی خطرے کو ناقابلِ قبول قرار دیا گیا۔
مشترکہ مؤقف میں خبردار کیا گیا کہ اسرائیل کی توسیعی پالیسیوں اور غیر قانونی اقدامات کا تسلسل خطے میں تشدد اور تنازعات کو مزید ہوا دے گا اور امن کے امکانات کو نقصان پہنچائے گا۔
اعلامیے میں اشتعال انگیز بیانات فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا گیا۔
شریک ممالک نے اس عزم کا اظہار کیا کہ چار جون انیس سو سڑسٹھ کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور تمام عرب زمینوں پر قبضے کے خاتمے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











